رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے بے مثال اخلاق کے آئینے میں سخت ترین مخالفین کے دل جیتنے کی داستان

رسول خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ جابرانہ ذرائع اور نہ سیاسی غلبہ پر انحصار کیا، بلکہ اپنے عظیم اخلاق، محبت بھری سیرت اور انسانی آزادی و کرامت کو تسلیم کرتے ہوئے سخت ترین مخالفین کے دل بھی جیت لیے اور نفرت و کدورت کے مضبوط قلعوں کو محبت و ایمان کے مضبوط مراکز میں تبدیل کر دیا۔
اس موضوع کا جائزہ لینے والے ہمارے ساتھی کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیے:
قرآن کریم کی واضح تعلیمات اور معتبر تاریخی متون کی بنیاد پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ رسول خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عملی سیرت ’’رحمۃً للعالمین‘‘ کا عملی نمونہ اور تمام انسانوں کے لئے پدرانہ شفقت و ہمدردی کا مظہر تھی۔
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں بندوں کی ہدایت کے سلسلہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شدید غم اور شفقت کو اس طرح بیان فرماتا ہے کہ گویا لوگوں کے ایمان نہ لانے کے غم میں آپؐ اپنی جان سے گزرنے کے قریب تھے۔
ہمدردی اور خیرخواہی کی یہی بے مثال کیفیت تھی جس نے آپؐ کو اس بات پر آمادہ کیا کہ اپنی رسالت کا بنیادی مقصد انسانوں کے جسموں پر غلبہ حاصل کرنا نہیں، بلکہ اخلاقی فضائل کی تکمیل اور انسانوں کو گمراہی کے گڑھے سے نجات دلانا قرار دیں۔
سفارتی معاملات اور مختلف ادیان کے پیروکاروں اور دنیا کے حکمرانوں کے ساتھ تعامل میں بھی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کسی بھی قسم کی زبردستی کی نفی، باہمی احترام اور تحقیق و انتخاب کے لئے آزاد ماحول فراہم کرنے پر قائم تھی۔
جب نجران کے عیسائی نمائندے مدینہ منورہ آئے تو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی مبارک چادر ان کے لئے بچھا دی اور انہیں مسجدِ مدینہ میں اپنی عبادت انجام دینے کی بھی اجازت دی۔
اسی طرح قیصرِ روم اور ایران کے بادشاہ کو خطوط ارسال کرتے ہوئے آپؐ کا بنیادی مقصد آگاہی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا اور لوگوں کو انتخاب کی آزادی فراہم کرنا تھا، نہ کہ حکومتوں کا خاتمہ۔
میثاقِ مدینہ اور آپؐ کے دیگر علاقائی معاہدات نے بھی یہ ثابت کیا کہ اسلام مختلف عقائد کے پیروکاروں کے درمیان پُرامن بقائے باہمی کو تسلیم کرتا ہے اور جہاد ان لوگوں کے خلاف ہے جو ظلم و جبر کے ذریعے آزادی کو سلب کرتے ہیں۔
لوگوں کی جانب سے ہونے والی توہین اور بدسلوکی کے مقابلے میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے مثال نرم خوئی آپؐ کی اسی تربیتی سیرت کا ایک اور روشن پہلو تھی۔
ایک موقع پر ایک بدّو عرب نے نہایت گستاخانہ انداز میں آپؐ سے خطاب کیا، لیکن رسول خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انتہائی بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسا حکمت آمیز اور ہدایت پر مبنی جواب دیا کہ اس شخص کے اندر ایسی روحانی تبدیلی پیدا ہوئی کہ وہ اسی وقت مسلمان ہوگیا۔
اسی طرح فتح مکہ کے موقع پر آپؐ کی عظیم الشان درگزر اور ابوسفیان اور عکرمہ بن ابی جہل جیسے افراد کو معاف کرنا اس بات کا سبب بنا کہ کل کے دشمن آنے والے دنوں میں آپؐ کے وفادار اور فداکار ساتھیوں میں تبدیل ہوگئے۔
روزمرہ زندگی میں رسول خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تواضع کا عالم یہ تھا کہ اجتماعی کاموں میں، مثلاً لکڑیاں جمع کرنے میں، خود پیش پیش رہتے؛ بچوں کو سلام کرتے اور لوگوں کا بھاری بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھاتے تھے۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بابرکت سیرت اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے کردار و عمل میں اس سیرت کا تسلسل اس حقیقت کو ثابت کرتا ہے کہ دلوں پر حقیقی اثر و رسوخ کرامت، تواضع، محبت اور انسانی اخلاق کا نتیجہ ہے۔




