دیوریا میں پرچمِ حسینی اتارنے پر تنازع، تین افراد گرفتار

دیوریا، اترپردیش: دیوریا کے مَجھولی راج علاقہ میں ایک مکان کے سامنے لگائے گئے مذہبی پرچم کو پولیس کی جانب سے اتارے جانے کے بعد تنازع پیدا ہوگیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک پرچم پر ’’یا حسین‘‘ تحریر تھا، جبکہ دوسرے پرچم پر کلمہ اور تلوار کی علامت بنی ہوئی تھی۔
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تین افراد کو گرفتار یا حراست میں لیا۔ واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد یہ معاملہ موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی امن و امان برقرار رکھنے کے مقصد سے کی گئی ہے اور لوگوں سے افواہوں پر توجہ نہ دینے کی اپیل کی گئی ہے۔
اس معاملے پر آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ کے سربراہ مولانا یعسوب عباس نے بھی ویڈیو بیان جاری کیا۔ انہوں نے پرچم اتارنے کی کارروائی پر انتظامیہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایامِ عزا ختم ہو چکے ہیں، اس لئے اب پرچم لگانے کی ضرورت نہیں تھی۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ اگر پرچم لگایا گیا تھا تو اسے اتارنے کے ساتھ معذرت طلب کرنا بھی افسوسناک ہے۔
مولانا یعسوب عباس نے مذہبی پرچموں پر بنائی جانے والی بعض علامتوں پر بھی اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ مسلمانوں کا معروف نشان ذوالفقار ہے اور مذہبی پرچم پر AK-47 جیسی تصاویر یا علامتیں نہیں بنائی جانی چاہئیں۔ انہوں نے اس معاملے میں مذہبی شعائر کے احترام اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔




