تاریخ اسلام

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ اور حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی شادی

10 ربیع الاول تاریخِ بشریت کے ایک فیصلہ کن واقعے کی یاد دلاتا ہے۔

رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ اور مکہ مکرمہ کی عظیم المرتبت خاتون حضرت خدیجہ کبریٰ سلام اللہ علیہا کے مبارک ازدواجی رشتے کی یاد ۔

یہ بابرکت ازدواج، جو بعثت سے تقریباً 15 سال قبل وجود میں آیا، محض ایک ازدواجی رشتہ نہیں تھا بلکہ اسلام کے نوخیز پودے کے لئے ایک محفوظ اور مضبوط پناہ گاہ کی بنیاد اور باہمی یکجہتی، ایمان و فداکاری پر مبنی مثالی ازدواجی زندگی کا لازوال نمونہ تھا۔

اس سلسلہ میں ہمارے نمائندے کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیے:

اسلام کی تاریخ فیصلہ کن نشیب و فراز سے بھری ہوئی ہے، لیکن کوہِ حرا سے توحید کی آواز بلند ہونے سے پہلے مکہ مکرمہ میں ایک ایسا مبارک رشتہ قائم ہوا جس نے آخری الٰہی رسالت کے لئے روحانی اور سماجی بنیاد فراہم کی۔

اس آشنائی کی داستان حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ کے اعلیٰ اخلاق، امانت داری اور راست گوئی کے روشن ماضی سے وابستہ ہے۔

یہی وہ اوصاف تھے جن کی وجہ سے اہلِ مکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ کو "امین” کے لقب سے یاد کرتے تھے اور محمد امین کہتے تھے۔

حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا، قریش کی ایک بافضیلت، دوراندیش اور معزز و مالدار خاتون تھیں۔ انہوں نے شام کے تجارتی سفر کے دوران رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی امانت داری اور حسنِ اخلاق کا مشاہدہ کیا۔ آپ کے غلام میسرہ کی بیان کردہ باتوں سے بھی وہ آپ کی روحانی عظمت اور اخلاقی کمالات سے متاثر ہوئیں اور بالآخر خود اس مبارک رشتے کی پیش کش کی۔

مشہور تاریخی روایات کے مطابق، اس مبارک عقد کے وقت رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی عمر 25 سال جبکہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی عمر 40 سال تھی۔

اس تاریخی ازدواج کا خطبۂ عقد رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے بزرگوار چچا اور خاندانِ بنی ہاشم کے سربراہ حضرت ابوطالب علیہ السلام نے قریش کے معززین کی موجودگی میں پڑھا۔

یہ ازدواج جاہلی اور مادی معیاروں کی بنیاد پر نہیں بلکہ اعلیٰ انسانی اقدار، صداقت، محبت اور باہمی ہم آہنگی کی بنیاد پر قائم ہوا۔

بعثت کے آغاز کے ساتھ ہی حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا وہ پہلی خاتون تھیں جنہوں نے وحیِ الٰہی کی دعوت پر لبیک کہا اور اپنی تمام دولت، وسائل اور سماجی اثر و رسوخ کو رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے الٰہی مشن کی کامیابی کے لئے وقف کردیا۔

اسلام کی غربت اور تنہائی کے سخت ترین ایام، بالخصوص شعبِ ابی طالب کے جان فرسا محاصرے کے دوران، حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا ایک پُرسکون اور مضبوط پناہ گاہ کی مانند رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے ساتھ ثابت قدمی سے کھڑی رہیں۔

اس نورانی ازدواج کا ثمرہ 6 اولاد کی صورت میں ظاہر ہوا، جن میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کوثرِ رسالت کی روشن مصداق، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی پاکیزہ نسل کو جاری رکھنے والی اور عالم کی خواتین کے لئے بے مثال نمونہ بنیں۔

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی زندگی میں حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کا روحانی، عاطفی اور حمایتی کردار اس قدر گہرا تھا کہ ان کی وفات کے بعد وہ سال "عامُ الحُزن” (سالِ غم) کے نام سے مشہور ہوگیا۔

رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ اپنی پوری بابرکت زندگی میں حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کو ہمیشہ محبت، احترام اور نیکی کے ساتھ یاد فرماتے اور ان کی بے مثال وفاداری کو سراہتے رہے۔

اس مبارک ازدواج کی سالگرہ ہمیں خاندان کے مرکز میں اخلاق، ایمان، وفاداری، باہمی احترام اور حقیقی رفاقت کو فروغ دینے کی یاد دہانی کراتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button