8 ربیع الاول: یوم شہادت امام حسن عسکری علیہ السّلام

8 ربیع الاول، تاریخِ تشیع کا وہ غم انگیز دن ہے جب سامرہ کی فضاؤں میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گیارہویں جانشین، فرزندِ امام علی نقی ہادی علیہ السلام اور والدِ گرامیِ امام مہدی علیہ السلام، حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت ہوئی۔ صرف 28 برس کی مختصر عمر میں امامؑ نے ایسی بصیرت، تقویٰ، صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا کہ آپؑ کا عہد، شدید عباسی جبر کے باوجود مکتبِ اہل بیت علیہم السلام کی تاریخ کا ایک نہایت اہم باب بن گیا۔
امام حسن عسکری علیہ السّلام 232 ہجری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپؑ کا نام حسن، کنیت ابومحمد اور معروف القاب زکی اور عسکری تھے۔ کم سنی ہی میں آپؑ اپنے والدِ بزرگوار امام علی نقی علیہ السلام کے ساتھ سامرہ لائے گئے اور تقریباً پوری زندگی عباسی حکومت کی نگرانی، پابندی اور دباؤ میں گزاری۔ سامرہ کے عسکری علاقے میں سکونت اور مسلسل حکومتی نگرانی کے باعث آپؑ ’’عسکری‘‘ کے لقب سے معروف ہوئے۔
آپؑ کی امامت کا دور صرف 6 برس پر محیط تھا، مگر یہ 6 برس انتہائی کٹھن سیاسی حالات سے عبارت تھے۔ عباسی حکمران امامؑ کے بڑھتے ہوئے روحانی و اجتماعی اثر و رسوخ اور شیعہ معاشرے کی مضبوط ہوتی ہوئی وابستگی سے خوف زدہ تھے۔ چنانچہ کبھی قید، کبھی نظر بندی اور کبھی مسلسل نگرانی کے ذریعے امامؑ کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کی جاتی رہی۔
اس شدید پابندی کے باوجود امامؑ نے شیعہ معاشرے سے اپنا رابطہ منقطع نہیں ہونے دیا۔ آپؑ نے اپنے قابل اعتماد اصحاب اور نمائندوں کے ذریعہ مختلف علاقوں میں موجود شیعیانِ اہل بیت علیہم السلام سے رابطہ برقرار رکھا۔ سوالات کے جوابات، شرعی مسائل کی رہنمائی، مالی امور اور اجتماعی مسائل میں ہدایت کا یہ نظام دراصل اس عظیم دور کی بنیاد بن رہا تھا جس میں امامِ معصومؑ سے براہِ راست رابطہ ممکن نہ رہنے والا تھا۔
امام حسن عسکری علیہ السّلام کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو عبادت، تقویٰ اور اخلاقِ حسنہ تھا۔ روایات میں مذکور ہے کہ آپؑ کی شخصیت سے دشمن بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ حتیٰ کہ بعض سخت دل نگہبان، جنہیں امامؑ کو اذیت دینے پر مامور کیا گیا تھا، آپؑ کی عبادت اور روحانی عظمت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ان کا رویہ ہی بدل گیا۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کی قوت صرف سیاسی اقتدار نہیں بلکہ کردار، عبادت اور روحانی اثر و نفوذ بھی تھا۔
آپؑ کی شہادت کے حوالے سے تاریخی مصادر میں تفصیلات میں کچھ اختلاف ملتا ہے، تاہم شیعہ روایات و تاریخی روایت میں آپؑ کی شہادت کو عباسی حکومت کے ظلم و ستم کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ بالخصوص معتمد عباسی کے عہد میں امامؑ کی مظلومانہ شہادت کا ذکر ملتا ہے۔ آپؑ کی شہادت نے سامرہ کو سوگوار کر دیا اور آپؑ کی تجہیز و تدفین میں مختلف طبقات کے لوگوں کی شرکت نے آپؑ کے وسیع سماجی اثر و رسوخ کو نمایاں کیا۔
امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کا سب سے عظیم تاریخی پہلو یہ ہے کہ اسی کے بعد امامت کا سلسلہ بارہویں امام، حضرت حجت بن الحسن عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف تک پہنچا۔ امامؑ نے اپنے فرزندِ گرامی کو ایسے دور کے لئے تیار کیا جس میں ظاہری طور پر امامِ وقت کی دسترس محدود اور پھر پردۂ غیبت میں منتقل ہونے والی تھی۔ یوں امام حسن عسکری علیہ السّلام کا دور، عصرِ حضورِ امام سے عصرِ غیبت کی طرف منتقلی کا تاریخی سنگِ میل بن گیا۔
8 ربیع الاول ہمیں صرف ایک مظلوم امام کی شہادت کی یاد نہیں دلاتا بلکہ یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ ظلم و جبر کے گھنے اندھیروں میں بھی حق کی روشنی کو دبایا نہیں جا سکتا۔ امام حسن عسکری علیہ السّلام نے قید و بند، نگرانی اور سیاسی دباؤ کے باوجود اپنے جدِ امجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغام اور اہل بیت علیہم السلام کی امامت کی حفاظت کی اور آنے والی نسلوں کو صبر، تقویٰ، بصیرت اور حق پر ثابت قدمی کا درس دیا۔
آج 8 ربیع الاول کے موقع پر محبانِ اہل بیت علیہم السلام اپنے گیارہویں امام کی مظلومانہ شہادت پر سوگوار ہیں۔ سامرہ کے روضۂ عسکریین علیہما السلام سے اٹھنے والی تاریخ کی یہ صدائے ماتم آج بھی دلوں کو متوجہ کرتی ہے کہ حق کے امام کو جسمانی قید میں تو رکھا جا سکتا ہے، مگر اس کے پیغام، کردار اور نورِ ہدایت کو قید نہیں کیا جا سکتا۔
شیعہ خبر رساں ایجنسی کی جانب سے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت پر حضرت ولی عصر امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف اور تمام محبانِ اہل بیت علیہم السلام کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کی جاتی ہے۔




