جس چیز کو عرفان کہا جاتا ہے اور اس کا اہل بیت علیہم السلام سے کوئی تعلق نہیں ہے تو وہ عرفان نہیں بلکہ جہالت ہے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
جس چیز کو عرفان کہا جاتا ہے اور اس کا اہل بیت علیہم السلام سے کوئی تعلق نہیں ہے تو وہ عرفان نہیں بلکہ جہالت ہے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کا روزانہ علمی اجلاس پیر کے روز، 3 ربیع الاول 1448ھ کو منعقد ہوا۔
اس نشست میں بھی گزشتہ مجالس کی طرح معظم لہ نے حاضرین کی جانب سے مختلف فقہی مسائل کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کے جوابات دیے۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے عرفان سے استفادہ کرنے کے حکم کے بارے میں فرمایا: اگر عرفان سے مراد خدائے متعال کی معرفت، اس کی صفاتِ ثبوتیہ و سلبیہ کی شناخت، یا انبیائے الٰہی، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ، ائمۂ اطہار علیہم السلام اور معاد کی معرفت ہو، اور یہ معرفت اہل بیت علیہم السلام سے وارد شدہ دلائل و معارف کی روشنی میں ہو، تو یہی صحیح اور اصیل اسلامی عرفان ہے؛ جیسا کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے بھی ’’کتاب اللہ اور عترت‘‘ سے تمسک اختیار کرنے پر تاکید فرمائی ہے۔
معظم لہ نے مزید فرمایا: لیکن اگر یہ عرفان اور معرفت اہل بیت علیہم السلام کے علاوہ کسی دوسرے راستے اور طریقے سے حاصل ہو اور اسے عرفان کے عنوان سے نام دیا اور پیش کیا جائے تو دینی تعلیمات کی رو سے وہ صحیح اور معتبر نہیں ہوگا۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے مزید تاکید فرمائی: مرحوم علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں اہل بیت علیہم السلام کے عرفان کے سلسلہ میں 50 سے زائد جلدوں اور پچاس ہزار سے زیادہ احادیث ذکر کی ہیں؛ لہٰذا جو عرفان اس دائرۂ کار میں ہو وہ صحیح ہے، اور جو کچھ اس دائرے سے باہر ہو وہ صحیح نہیں ہے۔
آیت اللہ العظمیٰ شیرازی نے مزید فرمایا: جس چیز کو عرفان کہا جاتا ہے اور جس کا اہل بیت علیہم السلام سے کوئی تعلق نہیں، وہ عرفان نہیں بلکہ جہالت ہے۔




