تاریخ اسلاممقالات و مضامین

3 ربیع الاول؛ جب یزیدی منجنیقوں نے کعبہ کو نشانہ بنایا

حرمِ خدا پر برسنے والے پتھر اور تاریخ کا سیاہ باب

تاریخ کے سینے پر کچھ زخم ایسے ہیں جو صدیوں گزرنے کے باوجود مندمل نہیں ہوئے۔ وقت ان واقعات کو ماضی کے صفحات میں دفن نہیں کر پاتا، کیونکہ ان کے اندر ظلم کی وہ چیخیں محفوظ ہیں جو ہر دور کے انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑتی رہتی ہیں۔

سنہ 64 ہجری کا مکہ مکرمہ کا محاصرہ بھی تاریخِ اسلام کا ایسا ہی ایک دردناک اور سیاہ باب ہے۔

یہ وہ دور تھا جب کربلا کا خون ابھی خشک نہیں ہوا تھا، اہلِ بیت علیہم السلام کی مظلومیت کا چرچا ابھی تازہ تھا، مدینہ منورہ کے واقعۂ حرّہ کا زخم ابھی بھرا نہیں تھا کہ یزیدی اقتدار نے اپنی طاقت کا رخ ایک بار پھر حرمِ خدا کی طرف کردیا۔

کربلا کے بعد ایک اور سانحہ

یزید بن معاویہ کے اقتدار کا سب سے نمایاں پہلو یہ تھا کہ اس نے اپنی حکومت کو قائم رکھنے کے لئے طاقت اور جبر کا سہارا لیا۔ امام حسین علیہ السلام نے اس ظالمانہ طرزِ حکومت کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکار کیا تو کربلا برپا ہوئی۔

امام حسین علیہ السلام شہید ہوگئے، اہلِ حرم اسیر ہوئے، لیکن امام حسین علیہ السلام کا پیغام خاموش نہ ہوا۔

اس کے بعد مدینہ منورہ میں یزیدی لشکر کی یلغار ہوئی۔ واقعۂ حرّہ نے اہلِ مدینہ کے دلوں کو زخمی کردیا۔ مگر ظلم کا یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا۔

مکہ مکرمہ میں عبداللہ بن زبیر کی مزاحمت یزیدی حکومت کے لئے ایک چیلنج بن چکی تھی۔ چنانچہ یزید نے اس مزاحمت کو ختم کرنے کے لئے شام سے لشکر روانہ کیا۔

ابتدا میں اس لشکر کی قیادت مسلم بن عقبہ کے پاس تھی، لیکن مکہ کی جانب سفر کے دوران اس کی موت ہوگئی۔ اس کے بعد حصین بن نمیر نے شامی فوج کی کمان سنبھالی اور مکہ مکرمہ کی طرف بڑھا۔

مکہ کا محاصرہ

26 محرم سنہ 64 ہجری کو یزیدی لشکر مکہ مکرمہ کے قریب پہنچا اور شہر کا محاصرہ کرلیا۔

ذرا تصور کیجیے! ایک طرف وہ مکہ ہے جس کی طرف دنیا بھر کے مسلمان نماز میں رخ کرتے ہیں۔

وہی مکہ جس میں اللہ کا گھر قائم ہے۔

وہی مسجد الحرام جس میں عبادت کو عظیم ترین عبادات میں شمار کیا جاتا ہے۔

اور دوسری طرف ایک لشکر ہے، جس کے ہاتھوں میں تلواریں ہیں، منجنیقیں ہیں اور اقتدار کا غرور ہے۔

مکہ کے پہاڑوں پر جنگی آلات نصب کئے گئے۔

اور پھر وہ منظر سامنے آیا جسے تاریخ کبھی بھلا نہیں سکتی:

یزیدی فوج نے منجنیقوں کے ذریعے مکہ مکرمہ پر پتھر برسانا شروع کردیئے۔

حرمِ خدا بھی اس حملے سے محفوظ نہ رہا۔

جب پتھر کعبہ کی طرف پھینکے گئے

یزیدی فوج نے یزید کے حکم پر مکہ مکرمہ کا محاصرہ کیا، حرمِ الٰہی کی حرمت کو پامال کیا اور منجنیقوں کے ذریعے کعبۂ معظمہ کو نشانہ بنایا۔

یہ صرف پتھر نہیں تھے۔ یہ تاریخ کے سینے پر پڑنے والے زخم تھے۔ یہ صرف ایک عمارت کو نشانہ بنانے والی ضربیں نہیں تھیں؛ یہ اس دور کی سیاسی بے حسی اور اقتدار کی ہوس کی گواہی تھیں۔

کعبہ جس کے سامنے بادشاہ بھی سر جھکاتے ہیں، اسے منجنیقوں کی زد میں لایا گیا۔

وہ گھر جسے اللہ نے امن کا مرکز قرار دیا، وہاں جنگ کے شعلے بلند ہوئے۔

اور پھر… 3 ربیع الاول سنہ 64 ہجری کو کعبۂ معظمہ میں آگ لگ گئی۔ کعبہ کی چھت کے بعض حصے جل گئے۔ عمارت کو نقصان پہنچا اور حرمِ خدا کے بارے میں سوچ کر آج بھی دل کانپ اٹھتا ہے۔

یہ کیسا اقتدار تھا؟

یہاں ایک سوال تاریخ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے کہ وہ اقتدار کیسا اقتدار تھا جس کے تحفظ کے لئے مدینہ کا خون بہایا گیا اور مکہ کو محصور کیا گیا؟

وہ حکومت کیسی حکومت تھی جس کے عہد میں کربلا میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے نواسے حضرت امام حسین علیہ السلام کو شہید کیا گیا؟

وہ سیاست کیسی سیاست تھی جس میں اہلِ بیت علیہم السلام کے خون کی حرمت نہ رہی؟

وہ طاقت کیسی طاقت تھی جو مسجد الحرام تک پہنچ گئی؟

یہی وہ مقام ہے جہاں کربلا کا پیغام اور زیادہ روشن ہوجاتا ہے۔

امام حسین علیہ السلام نے اسی اقتدار کے سامنے جھکنے سے انکار کیا تھا۔

آپؑ جانتے تھے کہ اگر ظالم حکومت کو دینی تقدس کا لباس پہنا دیا جائے تو پھر ظلم صرف لوگوں کے گھروں تک محدود نہیں رہتا؛ ایک دن حرم بھی اس کی زد میں آجاتا ہے۔

امام حسین علیہ السلام نے اقتدار نہیں، اقدار بچائیں

یزید کے پاس لشکر تھا۔ امام حسین علیہ السلام کے پاس وفاداروں کی ایک مختصر جماعت۔ یزید کے پاس تلواریں تھیں۔ امام حسین علیہ السلام کے پاس حق تھا۔ یزید کے پاس ظاہری اقتدار تھا۔ امام حسین علیہ السلام کے پاس کردار کی عظمت تھی۔

یزید نے سمجھا کہ طاقت سے آوازیں دبائی جاسکتی ہیں۔

امام حسین علیہ السلام نے اپنے خون سے ثابت کردیا کہ حق کی آواز کو قتل کیا جاسکتا ہے، خاموش نہیں کیا جاسکتا۔

کربلا میں امام حسین علیہ السلام کا جسم خاک و خون میں نہا گیا، مگر امام حسین علیہ السلام کا پیغام زندہ ہوگیا۔

اور یزید کی حکومت اپنے تمام لشکروں، محلوں اور اقتدار کے باوجود تاریخ کے کٹہرے میں کھڑی ہوگئی۔

یزید چلا گیا، سوال باقی رہ گیا

مکہ کا محاصرہ جاری تھا کہ یزید کی موت کی خبر پہنچی۔ اس کے بعد حصین بن نمیر نے محاصرہ ختم کیا اور شام واپس روانہ ہوگیا۔

یزید چلا گیا۔ اس کی حکومت چلی گئی۔ اس کے لشکر بکھر گئے۔ منجنیقیں خاموش ہوگئیں۔ لیکن تاریخ نے اس کے اعمال کو محفوظ کرلیا۔

آج صدیاں گزرنے کے بعد جب یزید کا نام لیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ کربلا، امام حسین علیہ السلام کی شہادت، مدینہ کا واقعۂ حرّہ اور مکہ مکرمہ کا محاصرہ بھی یاد آتا ہے۔

یہی تاریخ کا فیصلہ ہے کہ اقتدار چند دن کا ہوتا ہے، کردار صدیوں کا۔

کعبہ کی طرف اٹھنے والی منجنیقیں اور آج کا انسان

مکہ کا یہ واقعہ صرف ماضی کا قصہ نہیں۔ یہ ہمارے لئے ایک سوال ہے۔ جب طاقت حق کے مقابل کھڑی ہوجائے تو ہم کس طرف ہوں گے؟

جب اقتدار ظلم کو قانون کا نام دے تو ہم خاموش رہیں گے یا حق کا ساتھ دیں گے؟

جب مقدس اقدار کو سیاسی مفادات کے لئے قربان کیا جائے تو کیا ہم صرف تماشائی بنے رہیں گے؟

کربلا ہمیں جواب دیتی ہے:

نہیں!

امام حسین علیہ السلام کا راستہ خاموش تماشائیوں کا راستہ نہیں۔

امام حسین علیہ السلام کا راستہ حق، عدل، عزت اور ظلم کے مقابل استقامت کا راستہ ہے۔

اسی لئے کربلا آج بھی زندہ ہے۔

اور اسی لئے یزید آج بھی تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا ہے۔

تاریخ کا آخری فیصلہ

حرم کی دیواروں پر برسنے والے پتھر گزر گئے۔

آگ کے شعلے بجھ گئے۔

لشکر واپس چلے گئے۔

مگر تاریخ کی زبان آج بھی بول رہی ہے۔

وہ کہتی ہے:

حسینؑ کو شہید کیا گیا، مگر حسینؑ کا پیغام زندہ رہا۔

یزید نے اقتدار بچانے کی کوشش کی، مگر اپنا نام تاریخ کے سب سے بدنام کرداروں میں لکھوا گیا۔

کعبہ دوبارہ تعمیر ہوگیا۔

مکہ پھر آباد ہوگیا۔

حرم پھر عبادت گاہ بن گیا۔

مگر اس واقعہ کی یاد آج بھی یہ سوال کرتی ہے:

آخر وہ کون سا اقتدار تھا جس نے حرمِ خدا تک کو اپنی جنگ کی زد میں لے لیا تھا؟

اور جواب تاریخ دیتی ہے:

وہ یزیدی اقتدار تھا۔

کربلا نے ہمیں بتایا کہ ظلم کے سامنے جھکنا زندگی نہیں۔

مکہ نے ہمیں دکھایا کہ جب ظلم کو اقتدار مل جائے تو وہ مقدس ترین مقامات تک پہنچ سکتا ہے۔

اور امام حسین علیہ السلام نے ہمیں سکھایا کہ حق کے لئے اٹھنے والا انسان شہید ہو سکتا ہے، مگر اس کا پیغام کبھی نہیں مرتا۔

یہی امام حسین علیہ السلام کی فتح ہے اور یہی یزید کی شکست ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button