اربعین حسینی

کربلائے معلیٰ میں حاضری کی بے مثال فضیلت اور زیارتِ اربعین کی سعادت

اسلامی ثقافت اور معارف میں حضرت سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی زیارت، خصوصاً ایامِ اربعین میں، نہایت بلند اور بے مثال مقام رکھتی ہے۔ اگرچہ معذور اور محروم افراد کے لیے دور سے زیارت کرنے کے بارے میں متعدد روایات موجود ہیں، لیکن دینی متون اور ممتاز فقہاء کے نظریات اس بات پر زور دیتے ہیں کہ زیارت کی اصل روح اور اس کا حقیقی کمال کربلائے معلیٰ میں حاضری اور روضۂ حسینی پر حاضر ہونے سے حاصل ہوتا ہے۔

اس موضوع پر اپنے نمائندے کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:

کربلا کی جانب سفر کرنا اور حضرت سید الشہداء علیہ السلام کی زیارت کے راستے پر قدم رکھنا ایمان، وفاداری اور ندائے عاشورا پر عملی لبیک کا بے مثال مظہر ہے۔

اگرچہ اسلامی تعلیمات میں معذور اور ناتواں افراد کے لیے دور سے زیارت کا راستہ بیان کیا گیا ہے، لیکن زیارت کی حقیقت اور اس کی اعلیٰ ترین فضیلت اسی وقت حاصل ہوتی ہے جب انسان کربلا کی سرزمین پر حاضر ہو اور بارگاہِ حسینی میں شرفِ حاضری حاصل کرے۔

اہلِ بیت علیہم السلام سے منقول متعدد روایات میں سید و سالارِ شہیداں کے روضۂ اقدس پر حاضری اور دریائے فرات کے کنارے موجود ہونے کی غیر معمولی فضیلت بیان کی گئی ہے، اور اسے روحانی تربیت، معرفت کے ارتقاء اور ایثار و قربانی کے مکتب سے براہِ راست وابستگی کا بہترین میدان قرار دیا گیا ہے۔

آیت اللہ العظمیٰ شیرازی نے ایک علمی نشست میں زیارتِ اربعین کے مقام و منزلت پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے ارشاد فرمایا ہے:

“زیارتِ اربعین مؤمن کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔”

انہوں نے مزید فرمایا کہ اگر کوئی شخص زیارتِ اربعین پر جانے کی قدرت اور استطاعت رکھتا ہو، لیکن کسی معقول عذر کے بغیر اس سعادت سے محروم رہے، تو اس کا ایمان کامل نہیں سمجھا جائے گا۔

آیت اللہ العظمیٰ شیرازی نے لفظ “زیارت” کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ عربی زبان میں “زیارت” کا معنی “حاضری” ہے۔

انہوں نے مزید فرمایا کہ اگر کوئی شخص اربعین کے دن کربلا پہنچ جائے، امام حسین علیہ السلام کے حرم میں حاضر ہو، اور ایک مرتبہ بھی “السلام علیک یا اباعبداللہ” نہ کہے، تب بھی یہ زیارتِ اربعین شمار ہوگی، کیونکہ زیارت کی حقیقت حاضری میں پوشیدہ ہے۔

البتہ انہوں نے اس بات پر بھی تاکید فرمائی کہ زیارت نامہ پڑھنا ایک الگ عمل ہے، جبکہ زیارت کا اصل مفہوم حرمِ امام حسین علیہ السلام میں حاضر ہونا ہے۔

امام حسن عسکری علیہ السلام کی مذکورہ حدیث کی روشنی میں زیارتِ اربعین کی اہمیت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ چنانچہ اگر کوئی شخص اس سفر کی استطاعت رکھتا ہو اور پھر بھی بلاعذر اس سعادت سے چشم پوشی کرے، تو یہ اس کے ایمان میں ایک قسم کی کمی اور کمزوری کی علامت سمجھی جائے گی۔

مجموعی طور پر دینی متون اور فقہاء کے بیانات سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دور سے زیارت کرنا ان افراد کے لیے ایک شرعی سہولت ہے جو کسی عذر کی بنا پر کربلا نہیں پہنچ سکتے، لیکن یہ سہولت ہرگز اس بات کا سبب نہیں بننی چاہیے کہ انسان حرمِ حسینی میں حاضری کی آرزو اور کوشش کو ترک کر دے۔

زیارتِ اربعین کی حقیقی روح کربلا کے راستے پر چلنے اور روضۂ مطہرِ حسینی میں حاضر ہونے میں مضمر ہے۔ یہ ایک ایسا بے مثال روحانی اور ایمانی اجتماع ہے جس میں شرکت ایمانِ کامل اور مکتبِ عاشورا سے وفاداری کی روشن علامت سمجھی جاتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button