زیارتِ عاشورا جیسے مستحب اعمال کو مکمل پڑھنا واجب نہیں، البتہ مکمل ادائیگی پر ہی ان کے کامل آثار و برکات حاصل ہوتے ہیں: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
زیارتِ عاشورا جیسے مستحب اعمال کو مکمل پڑھنا واجب نہیں، البتہ مکمل ادائیگی پر ہی ان کے کامل آثار و برکات حاصل ہوتے ہیں: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی
مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی کا روزانہ علمی نشست کا سلسلہ اتوار، 11 صفر 1448ھ کو منعقد ہوا، جس میں حسبِ معمول مختلف فقہی مسائل سے متعلق حاضرین کے سوالات کے جوابات دیے گئے۔
اس موقع پر ایک سوال کے جواب میں آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے زیارتِ عاشورا جیسے مستحب اعمال کو مکمل انجام دینے کے حکم کے بارے میں فرمایا: زیارتِ عاشورا کو مکمل پڑھنا لازم نہیں۔ اگر کسی شخص کے پاس وقت کم ہو یا طبیعت موافق نہ ہو تو وہ اس کا کچھ حصہ بھی پڑھ سکتا ہے۔
معظم لہ نے مزید فرمایا کہ مستحب اعمال میں مکمل ادائیگی ضروری نہیں ہوتی۔
البتہ آپ نے اس بات پر بھی تاکید فرمائی کہ کسی مستحب عمل، جیسے زیارتِ عاشورا، کے کامل آثار، فضائل اور برکات اسی وقت حاصل ہوتے ہیں جب اسے مکمل طور پر انجام دیا جائے۔




