خبریںعراقمقدس مقامات اور روضے

کربلا کی جانب پیدل سفر کی بے مثال فضیلت؛ روایاتِ اہلِ بیتؑ کی روشنی میں زیارتِ سیدالشہداءؑ کے روحانی ثمرات

اربعینِ حسینی کا پیدل سفر، واقعۂ کربلا کے عظیم پیغام سے تجدیدِ عہد کی ایک منفرد اور روح پرور علامت ہے۔ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام سے منقول روایات کے مطابق، اس سفر میں اٹھایا جانے والا ہر قدم بے شمار روحانی برکتوں، اجرِ عظیم اور قربِ الٰہی کا ذریعہ بنتا ہے۔

اس حوالے سے ہمارے نمائندے کی یہ رپورٹ ملاحظہ کیجیے:

زیارتِ اربعین اور بارگاہِ حضرت سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام کی جانب پیدل سفر کی فضیلت اُن عاشقانہ قدموں میں مضمر ہے جو راہِ کربلا پر اٹھتے ہیں اور رحمتِ الٰہی کے افق تک جا پہنچتے ہیں۔

یہ روحانی سفر محض ایک ظاہری مسافت نہیں، بلکہ تزکیۂ نفس، خودسازی اور قربِ الٰہی کی جانب ایک باطنی ہجرت ہے، جس کے گہرے روحانی پہلو اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی نورانی احادیث میں نمایاں طور پر بیان ہوئے ہیں۔

متعدد روایات میں معصومین علیہم السلام نے بشارت دی ہے کہ حضرت سیدالشہداء علیہ السلام کی زیارت کے لیے اٹھایا جانے والا ہر قدم زائر کے نامۂ اعمال سے ایک گناہ مٹا دیتا ہے، اس کے لیے ایک نیکی ثبت کر دیتا ہے اور اسے بارگاہِ الٰہی میں ایک بلند درجے پر فائز کر دیتا ہے۔

اربعین کے ایام میں بار بار پڑھی جانے والی یہ مبارک احادیث اس عظیم عبادت کی اہمیت اور اس کے بے مثال روحانی اثرات کو اجاگر کرتی ہیں۔

راہِ کربلا کا یہ طویل سفر درحقیقت انسان سازی، صبر، ایثار اور اعلیٰ اخلاق کا عملی مدرسہ ہے، جو انسان کو دنیاوی وابستگیوں سے نکال کر حقیقی بندگی اور رضائے الٰہی کی منزل سے ہمکنار کرتا ہے۔

اسی شوقِ زیارت کے باعث اس سفر کی تمام مشقتیں عاشقانِ امام حسینؑ کے لیے دائمی لذت اور روحانی سرور میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔

اس حوالے سے معتبر ترین اور مؤثر روایات میں سے ایک حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا وہ ارشاد ہے جو معروف کتاب «کامل الزیارات» میں نقل ہوا ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

“جو شخص امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لیے پیدل روانہ ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے ایک نیکی اس کے نامۂ اعمال میں لکھتا ہے، ایک گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اس کے درجات میں ایک درجہ اضافہ فرما دیتا ہے۔”

یہ نورانی ارشاد اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ راہِ کربلا کی ہر مشقت بارگاہِ الٰہی میں عظیم اجر و ثواب کا باعث بنتی ہے۔

یہ سفر نہ صرف انسان کی روحانی بلندی، گناہوں کی مغفرت اور درجات کی رفعت کا ذریعہ ہے، بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور عنایت کے سائے میں لے آتا ہے۔

بلاشبہ، یہ عظیم اجر و ثواب مادّی زندگی کی ہنگامہ خیزی سے تھکی ہوئی روحوں کے لیے دائمی سکون، اطمینان اور قربِ الٰہی کی ایک بے مثال نعمت ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button