3 صفر؛ جنگِ صفین میں حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا جہاد

بعض تاریخی روایات کے مطابق جنگِ صفین کا باقاعدہ آغاز یکم صفر 37 ہجری کو ہوا، اس اعتبار سے 3 صفر اس عظیم معرکے کے تیسرے دن کی یاد تازہ کرتا ہے۔
یہ وہ دن تھا جب امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے وفادار صحابی، اسلام کے اولین مجاہد، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے جاں نثار رفیق اور ولایتِ علویؑ کے بے باک علمبردار حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے نہ صرف میدانِ جنگ میں بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا بلکہ اپنی بصیرت افروز گفتگو، مدلل استدلال، روح پرور مناجات، ولولہ انگیز رجز اور حق کی جرأت مندانہ تبیین کے ذریعہ تاریخِ اسلام کا ایک روشن باب رقم کیا۔
جنگِ صفین کے تیسرے روز امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی قیادت میں لشکر کا ایک اہم دستہ میدانِ کارزار کی طرف روانہ فرمایا، جبکہ دوسری جانب معاویہ نے عمرو بن عاص کی سربراہی میں اپنے لشکر کو مقابلے کے لئے بھیجا۔
دونوں لشکروں کے درمیان نہایت شدید اور خونریز جنگ ہوئی، لیکن حضرت عمّار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی قیادت، مجاہدین کی استقامت اور لشکرِ علویؑ کے بلند حوصلوں نے دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ اس معرکے میں عمرو بن عاص کو میدانِ جنگ سے فرار ہونا پڑا اور فتح لشکرِ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے حصے میں آئی۔
حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی عظمت صرف شمشیر زنی تک محدود نہ تھی، بلکہ آپ میدانِ تبیین کے بھی عظیم سپہ سالار تھے۔ آپ نے مجاہدین سے خطاب کرتے ہوئے معاویہ کے ماضی، اس کی اسلام دشمنی اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سے اس کی دیرینہ عداوت کو یاد دلایا اور واضح فرمایا کہ اسلام کا حقیقی معیار محض ظاہری اسلام نہیں بلکہ ایمانِ صادق، اطاعتِ رسولؐ اور ولایتِ حق سے وابستگی ہے۔
آپ نے مجاہدین کو باطل کے مقابلے میں استقامت، صبر اور جہاد کی تلقین کرتے ہوئے اعلان فرمایا کہ اللہ کے نور کو بجھانے والوں کے سامنے خاموشی اختیار کرنا اہلِ ایمان کا شیوہ نہیں۔
جنگِ صفین کے دوران حضرت عمّار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی مناجاتیں آپ کے بلند روحانی مقام کی آئینہ دار ہیں۔ آپ بارگاہِ الٰہی میں نصرتِ حق، شہادت کی سعادت اور دینِ خدا کی سربلندی کی دعا کرتے اور عرض کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان فاسق گروہوں کے خلاف جہاد سے بڑھ کر کوئی محبوب عمل ہوتا تو وہی انجام دیتے۔ یہی اخلاص، یقین اور معرفت آپ کی استقامت کا سرچشمہ تھا۔
حضرت عمّار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے عمرو بن عاص اور عبیداللہ بن عمر جیسے افراد کو بھی نہایت بے باکی سے مخاطب کیا۔ آپ نے عمرو بن عاص کو مصر کی حکومت کے عوض اپنا دین فروخت کرنے پر ملامت کی، جبکہ عبیداللہ بن عمر کو دنیاوی مفادات اور سیاسی اغراض کی خاطر راہِ حق سے انحراف پر سخت تنبیہ فرمائی۔
آپ کا یہ طرزِ عمل اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ اہلِ حق کبھی مصلحت اندیشی یا خوف کے باعث ظلم اور باطل کے خلاف حق گوئی ترک نہیں کرتے۔
حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی سب سے نمایاں خدمات میں سے ایک لشکرِ امیرالمؤمنین علیہ السلام میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کا ازالہ تھا۔
جب بعض افراد اس وجہ سے تردد کا شکار ہوئے کہ دونوں لشکر ایک ہی کلمہ پڑھتے، نماز ادا کرتے اور قرآن کی تلاوت کرتے ہیں، تو حضرت عمّار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے نہایت حکمت کے ساتھ واضح فرمایا کہ حق و باطل کا معیار ظاہری عبادات نہیں بلکہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت، ولایتِ امیرالمؤمنین علیہ السلام اور عملی وفاداری ہے۔ آپ کی بصیرت افروز گفتگو نے متردد افراد کے دلوں سے شبہات دور کر دیے اور انہیں راہِ حق پر ثابت قدم کر دیا۔
جنگ کے مختلف مراحل میں حضرت عمّار رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے سپہ سالار، پیادہ فوج کے قائد، مبلغ، قاری اور مجاہدین کے روحانی رہنما کی حیثیت سے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آپ کبھی دشمن کی صفوں پر یلغار کرتے، کبھی مجاہدین کے حوصلے بلند کرتے، کبھی انہیں جنت کی بشارت دیتے اور کبھی راہِ خدا میں جان نچھاور کرنے کا جذبہ بیدار کرتے۔
آپ کی ولولہ انگیز صدائیں "اے لوگو! جنت کی طرف کوچ کرو” اور "ثابت قدم رہو! اللہ کی قسم! جنت تلواروں کے سائے تلے ہے” آج بھی اہلِ ایمان کے لئے ایمان افروز پیغام کی حیثیت رکھتی ہیں۔
حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شہادت جنگِ صفین کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مشہور پیشنگوئی "عمّار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا” اسی معرکے میں پوری ہوئی، جس کے بعد بہت سے متردد افراد پر حق و باطل کی حقیقت آشکار ہو گئی۔ متعدد اصحاب نے اسی حدیثِ نبویؐ کی روشنی میں لشکرِ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی حقانیت کو مزید یقین کے ساتھ تسلیم کیا۔
تاریخ گواہ ہے کہ تقریباً نوّے برس کی عمر میں بھی حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کا عزم جوان تھا۔ جسمانی ضعف کے باوجود آپ کی آواز میں ایسا یقین، ایسی حرارت اور ایسا اخلاص تھا کہ وہ مجاہدین کے دلوں میں شجاعت، استقامت، ایثار اور عشقِ ولایت کی نئی روح پھونک دیتی تھی۔
آپ کی پوری حیاتِ مبارکہ اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ حق کی نصرت صرف تلوار کے ذریعہ نہیں، بلکہ بصیرت، تبیین، اخلاص، استقامت اور ولایتِ اہلِ بیت علیہم السلام سے غیر متزلزل وابستگی کے ذریعہ بھی ہوتی ہے۔
3 صفر کی مناسبت سے حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی سیرت اور جنگِ صفین میں ان کے تاریخی کردار کا مطالعہ امتِ مسلمہ کو یہ پیغام دیتا ہے کہ فتنوں کے دور میں حق کی صحیح شناخت، الہی قیادت سے وابستگی، باطل کے مقابلے میں بے خوف موقف اور دینی بصیرت ہی انسان کو صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رکھتی ہے۔ اسی لئے حضرت عمّار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کی شخصیت رہتی دنیا تک ولایتِ علویؑ، استقامت، حق گوئی اور بصیرت کی درخشاں علامت کے طور پر یاد کی جاتی رہے گی۔




