یورپ

فرانس کے شہر مارسی میں مسلمانوں کو عبادت کے حق سے عملی محرومی؛ سخت گیر قوانین کے سائے میں مساجد کی تعمیر کے لیے عوامی جدوجہد

فرانس کے شہر مارسی میں مسلمانوں کو عبادت کے حق سے عملی محرومی؛ سخت گیر قوانین کے سائے میں مساجد کی تعمیر کے لیے عوامی جدوجہد

فرانس کے بندرگاہی شہر مارسی میں تین لاکھ سے زائد مسلمان حکومتی سخت گیر پالیسیوں اور مساجد کی شدید قلت کے باعث اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی میں سنگین مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

اگرچہ اس شہر کی 20 فیصد سے زیادہ آبادی مسلمانوں پر مشتمل ہے، تاہم پورے مارسی میں صرف 70 چھوٹی نمازگاہیں موجود ہیں، جس کے باعث عیدین اور دیگر بڑے مذہبی مواقع پر ہزاروں مسلمان سڑکوں اور پارکوں میں نماز ادا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی فرانس 24 کے مطابق، 2021ء میں منظور کئے گئے "جمہوری اقدار کے تحفظ” کے قانون کے تحت بیرونی مالی امداد پر سخت نگرانی عائد کر دی گئی، جس کے نتیجے میں اسلامی ممالک کی جانب سے مساجد کی تعمیر کے لیے مالی تعاون حاصل کرنا انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔

سرکاری مالی معاونت کے فقدان میں مقامی اسلامی انجمنیں مساجد کی تعمیر کے تمام اخراجات خود برداشت کر رہی ہیں اور عوامی عطیات کے ذریعے ان منصوبوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

اسلامی انجمن "اے سی ایم 13” کے نمائندہ ناصر مندل کا کہنا ہے کہ مساجد کی تعمیر صرف عبادت گاہوں کے قیام تک محدود نہیں، بلکہ یہ مراکز دینی و تعلیمی سرگرمیوں کے فروغ، سماجی خدمات کی فراہمی اور پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کو سماجی برائیوں سے محفوظ رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button