پاکستان

امام باڑوں نے اردو زبان و ادب کے تحفظ میں تاریخی کردار ادا کیا

امام باڑوں نے اردو زبان و ادب کے تحفظ میں تاریخی کردار ادا کیا

فرنٹ لائن میگزین، انڈیا کی خاص رپورٹ

برصغیر میں سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کے باوجود امام باڑے اردو زبان و ادب کے تحفظ، ترویج اور ارتقا کے اہم مراکز رہے ہیں۔

فرنٹ لائن میگزین، انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق لکھنؤ اور دکن کے امام باڑوں نے مرثیہ، سلام اور نوحہ نگاری کی روایت کو فروغ دے کر اردو زبان کو نہ صرف زوال سے محفوظ رکھا بلکہ اسے فصاحت و بلاغت کی نئی بلندیوں تک پہنچانے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لکھنؤ کا بڑا امام باڑہ، چھوٹا امام باڑہ اور حیدرآباد دکن کا تاریخی بادشاہی عاشور خانہ صدیوں سے ادبی، ثقافتی اور مذہبی سرگرمیوں کے مراکز رہے ہیں۔ میر ببر علی انیس اور مرزا سلامت علی دبیر جیسے عظیم مرثیہ نگاروں نے انہی علمی و ادبی مراکز سے اردو مرثیہ نگاری کو عروج بخشا اور اردو ادب کو گراں قدر سرمایہ عطا کیا۔

رپورٹ کے مطابق آج بھی امام باڑوں میں منعقد ہونے والی مجالس، مرثیہ خوانی، سلام اور نوحہ خوانی کی روایات اردو زبان کی تہذیبی، ادبی اور لسانی شناخت کو محفوظ رکھنے اور نئی نسلوں تک منتقل کرنے میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button