یورپ

آئرلینڈ میں اسلام مخالف اقدام پر کلیسائی رہنماؤں کا ردِعمل؛ اسلامی علامات کی توہین کی مذمت

مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان باہمی احترام کا فروغ اور نفرت انگیزی کے رجحانات کا مقابلہ کرنا کثیرالثقافتی معاشروں میں امن و استحکام کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔

کسی بھی مذہب کی مقدسات یا مذہبی علامات کی توہین نہ صرف اس مذہب کے ماننے والوں کے جذبات کو مجروح کرتی ہے بلکہ معاشرے میں رواداری، امن اور پُرامن بقائے باہمی کو بھی متاثر کرتی ہے، اسی لیے ایسے اقدامات پر مذہبی رہنماؤں کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آتا ہے۔

آئرش اخبار "آئرش نیوز” کے مطابق، شمالی آئرلینڈ میں 12 جولائی کی روایتی تقریبات کے موقع پر نامعلوم افراد نے آتش بازی کے لئے تیار کئے گئے لکڑی کے ایک بڑے ڈھیر پر مسجد کا ایک ماڈل نصب کیا، جس کے ساتھ اسلام مخالف نعرے بھی درج تھے۔ اس اقدام کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے شدید مذمت اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔

واقعہ کے بعد کیتھولک چرچ کے آرچ بشپ ایمون مارٹن اور چرچ آف آئرلینڈ کے پروٹسٹنٹ آرچ بشپ جان مک ڈاؤل نے مشترکہ بیان میں اس اسلام مخالف حرکت کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی علامات کو نشانہ بنانا جمہوری اقدار، مذہبی آزادی اور باہمی احترام کے اصولوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

مسیحی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ جس طرح مسیحی اپنے مقدسات اور مذہبی علامات کی توہین کو ناقابلِ قبول سمجھتے ہیں، اسی طرح دیگر مذاہب کے عقائد اور مقدسات کا احترام بھی ضروری ہے۔

شمالی آئرلینڈ کی پولیس نے واقعہ کی تحقیقات شروع کرتے ہوئے اس توہین آمیز نمونے کو ہٹا دیا ہے اور اس سلسلے میں ایک 56 سالہ شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button