پاکستان

پاکستان میں غیر قانونی افغان مہاجرین کی مہلت ختم؛ صرف پشاور سے 20 ہزار افراد کی بے دخلی کا امکان

پاکستان میں غیر قانونی افغان مہاجرین کی مہلت ختم؛ صرف پشاور سے 20 ہزار افراد کی بے دخلی کا امکان

پاکستان میں غیر دستاویزی افغان مہاجرین کے قیام کی آخری مہلت آج 10 جولائی کو ختم ہو گئی۔ وزارتِ داخلہ نے تمام صوبوں، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور اسلام آباد پولیس کو ہدایت جاری کی ہے کہ ویزے کی مدت ختم ہونے والے ہر افغان کو فوری گرفتار کر کے ملک بدر کیا جائے۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق صرف خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سے مرحلہ وار تقریباً 20 ہزار افغان مہاجرین کو واپس بھیجا جائے گا۔ پولیس نے آپریشن کی تکمیل کے لیے وفاقی فورسز سے تعاون طلب کر لیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی پولیو مہم کے اختتام کے بعد شروع ہوگی۔ گرفتار خاندانوں کو ابتدائی طور پر ناصر باغ کیمپ منتقل کیا جائے گا اور وہاں سے افغانستان روانہ کیا جائے گا۔

خوف کے باعث بہت سے مہاجرین گھروں سے باہر نہیں نکل رہے۔ پشاور میں مقیم سابق افغان عدالتی اہلکار صابرہ جامی الحمدی نے بی سی کو بتایا کہ "لوگوں نے آمد و رفت اور سماجی رابطے کم کر دیے ہیں”۔ صابرہ اور ان کا خاندان ویزے کی عدم موجودگی کے باعث اب جبری واپسی کے خطرے سے دوچار ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2023 سے اب تک تقریباً 60 لاکھ افغان مہاجرین پاکستان اور ایران سے واپس جا چکے ہیں، جن میں اکثریت جبری واپسی کی ہے۔ اقوامِ متحدہ کا تخمینہ ہے کہ رواں سال کے آخر تک مزید 30 لاکھ افراد کو بے دخل کیا جا سکتا ہے۔ یو این کا کہنا ہے کہ اس بڑے پیمانے پر واپسی سے افغانستان کی آبادی میں 10 فیصد اضافہ ہوگا، جس سے پہلے سے شدید اقتصادی بحران اور انسانی امداد پر انحصار کرنے والے ملک میں مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button