افریقہ

مراکش میں داعش سے وابستہ دہشت گرد نیٹ ورک بے نقاب، 10 ارکان گرفتار

مراکش کے مرکزی عدالتی تحقیقاتی دفتر (BCIJ) نے ساحل کے خطے میں سرگرم شدت پسند سنی تنظیم داعش کی سرپرستی میں کام کرنے والے ایک دہشت گرد نیٹ ورک کے 10 ارکان کو گرفتار کر لیا ہے۔

گرفتار شدگان میں دہشت گردی کے مقدمات میں سزا یافتہ ایک سابق مجرم اور ایک کم عمر نوجوان بھی شامل ہیں۔

مراکشی حکام کے مطابق اس کامیاب کارروائی کے ذریعے اس دہشت گرد گروہ کے نہایت خطرناک منصوبوں کو ناکام بنا دیا گیا، جو عملی نفاذ کے آخری مراحل میں پہنچ چکے تھے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارہ اے ایف پی کے مطابق یہ ہم وقت اور اچانک کارروائیاں خفیہ اداروں کی انتہائی دقیق معلومات کی بنیاد پر مراکش کے مختلف شہروں، جن میں کازابلانکا، اگادیر اور تطوان شامل ہیں، انجام دی گئیں۔

چھاپوں کے دوران ایک خفیہ ٹھکانے اور انزکان کے علاقہ میں واقع ایک گودام سے سرد ہتھیار، فوجی وردیاں، دھماکا خیز مواد تیار کرنے کی ہدایات، اور داعش سے بیعت پر مشتمل ویڈیوز برآمد کی گئیں۔

سکیورٹی فورسز نے ایک ایسی ایس یو وی گاڑی بھی قبضے میں لے لی جو گیس کے سلنڈروں سے لیس تھی اور جسے خودکش حملے یا شہریوں کو کچلنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ کیلوں اور کیمیائی مواد سے بھرے پریشر ککر بھی برآمد کر کے ناکارہ بنا دیے گئے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس دہشت گرد نیٹ ورک کے سرغنہ نے اپنے ارکان کو حساس مقامات کی نشاندہی، حملوں کے لیے ضروری سامان کی فراہمی اور دہشت گردانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی و تیاری جیسے مخصوص فرائض سونپ رکھے تھے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button