23 محرم الحرام: روضۂ امامین عسکریین علیہما السلام پر دہشت گردانہ حملے کی المناک یاد
23 محرم الحرام: روضۂ امامین عسکریین علیہما السلام پر دہشت گردانہ حملے کی المناک یاد
23 محرم الحرام 1427 ہجری کو عراق کے مقدس شہر سامرہ میں واقع حضرت امام علی نقی الہادی علیہ السلام اور حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے روضۂ مبارک پر دہشت گردوں نے بم دھماکے کے ذریعے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں روضۂ اقدس کا تاریخی سنہری گنبد منہدم ہوگیا اور عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ اس سانحے نے عالمِ اسلام، بالخصوص محبانِ اہلِ بیت علیہم السلام کو گہرے صدمے سے دوچار کر دیا۔
بعد ازاں 27 جمادی الاول 1428 ہجری کو روضۂ مبارک پر ایک بار پھر دہشت گردانہ حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں گنبد، میناروں اور مقدس سرداب کے اطراف بھی متاثر ہوئے۔ ان حملوں کو اسلامی تہذیب، مذہبی مقدسات اور انسانی ورثے کے خلاف ایک سنگین جرم قرار دیا گیا۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق مختلف ادوار میں اہلِ بیت علیہم السلام اور دیگر اسلامی شخصیات کے مزارات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات میں 8 شوال 1344 ہجری کو مدینہ منورہ میں واقع تاریخی قبرستان جنت البقیع کی مسماری، مکہ مکرمہ کے قبرستان حجون، جدہ میں حضرت حوا سلام اللہ علیہا سے منسوب مقام، ابواء میں حضرت آمنہ سلام اللہ علیہا کے مرقد اور میدانِ اُحد میں شہدائے اُحد کے مزارات کی مسماری شامل ہے۔
اسی طرح تاریخ میں کربلا پر ہونے والے حملے کا بھی ذکر ملتا ہے، جس میں حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضۂ مبارک کو نقصان پہنچایا گیا، قیمتی نوادرات لوٹے گئے اور متعدد زائرین و شہری شہید یا جاں بحق ہوئے۔
مبصرین کے مطابق مذہبی مقامات پر حملے نہ صرف ایک مخصوص مکتبِ فکر کے ماننے والوں کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں بلکہ بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی آزادی اور عالمی ثقافتی ورثے کے لئے بھی سنگین خطرہ ہیں۔
واضح رہے کہ 23 محرم الحرام 1427 ہجری کو روضۂ امامین عسکریین علیہما السلام پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد مرجعِ عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے اس بزدلانہ اور دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کی۔ آپ نے محبانِ اہلِ بیت علیہم السلام کو نصیحت فرمائی کہ وہ اہلِ بیت علیہم السلام کے معارف و تعلیمات کے فروغ کے لئے زیادہ سے زیادہ مجالسِ عزا، علمی نشستوں اور دینی پروگراموں کا اہتمام کریں، تاکہ دنیا حقیقی اسلام، یعنی مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام، سے بہتر طور پر آشنا ہو سکے۔
اسی مناسبت سے ہر سال شیعہ مرجعیت کے دفتر اور ان سے وابستہ دینی و ثقافتی مراکز میں مجالسِ عزا کی جاتی ہیں، جن میں اس المناک سانحے کو یاد کرتے ہوئے امامین عسکریین علیہما السلام کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے اور اہلِ بیت علیہم السلام کے پیغامِ ہدایت کو عام کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔




