تاریخ اسلام

22 محرم: امیرالمؤمنین امام علی بن ابی طالب علیہ السلام کی سرزمینِ صفین میں آمد

22 محرم الحرام 37 ہجری کو امیرالمؤمنین امام علی بن ابی طالب علیہ السلام کا لشکر کوفہ سے طویل سفر طے کرکے سرزمینِ صفین پہنچا۔

یہ واقعہ تاریخِ اسلام کے نہایت حساس اور فیصلہ کن مرحلے کا آغاز تھا، جہاں مسلمانوں کے برحق امام نے شام کے حاکم کی سرکشی اور اقتدار پسندی کے مقابلہ میں آخری لمحے تک جنگ و خونریزی کے بجائے ہدایت، بصیرت افروزی اور اتمامِ حجت کی راہ اختیار فرمائی۔

جنگِ جمل کے اختتام کے بعد امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام نے اسلامی ریاست کی مغربی سرحدوں کی بہتر نگرانی اور شام کی سازشوں کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے دارالحکومت کو مدینہ سے کوفہ منتقل فرمایا۔

دوسری جانب معاویہ بن ابی سفیان نے اپنے عہدے سے معزولی کے حکم کو کھلے عام مسترد کرتے ہوئے حضرت عثمان کے خون کا بہانہ بنا کر امتِ مسلمہ میں تفرقہ اور اختلاف کو ہوا دی۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے کئی ماہ تک خطوط کے ذریعہ نصیحت فرمائی، متعدد نمائندے بھیجے اور ہر ممکن کوشش کی کہ فتنہ ختم ہو جائے، لیکن جب اصلاح کی تمام راہیں مسدود ہو گئیں تو امتِ مسلمہ کے اتحاد اور امن کے تحفظ کے لیے اس بغاوت کا مقابلہ کرنے کا عمومی حکم صادر فرمایا۔

آپؑ کا لشکر مدائن اور انبار سے گزرتا ہوا 22 محرم کو دریائے فرات کے مغرب میں واقع میدانِ صفین پہنچا۔

اس موقع پر امیرالمؤمنین علیہ السلام کی عسکری سیرت کا ایک نہایت درخشاں پہلو نمایاں ہوا، وہ یہ کہ آپؑ نے جنگ اور فتح پر ہمیشہ صلح، ہدایت اور اخلاق کو ترجیح دی۔

اگرچہ لشکرِ شام نے پہلے ہی فرات کا پانی بند کر کے جنگی اقدام کیا تھا، لیکن جب حضرت علی علیہ السلام نے دوبارہ پانی پر اختیار حاصل کیا تو دشمن کے لئے بھی پانی کا راستہ کھول دیا اور اپنے سپہ سالاروں کو حکم دیا کہ جب تک مخالف فریق خود جنگ کا آغاز نہ کرے، ہرگز پہل نہ کی جائے۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام نے ماہِ محرم، جو حرمت والے مہینوں میں سے ہے، کے احترام کو بھی ملحوظ رکھا اور اسی مدت میں مذاکرات اور سفارتی کوششوں کو جاری رکھا۔

اس دوران آپؑ نے اپنے لشکر میں متعدد بصیرت افروز خطبات ارشاد فرمائے، جن میں نفاق کی حقیقت، عدل پر مبنی حکومت کے اصول اور حق و باطل کے درمیان واضح امتیاز کو بیان کیا، تاکہ حق کے متلاشیوں کے لیے کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔

یہ اتمامِ حجت پورے ماہِ محرم جاری رہا، لیکن بنو امیہ کی ہٹ دھرمی، اقتدار کی خواہش اور ضد کے باعث ماہِ صفر کے آغاز میں ایک ایسی جنگ ناگزیر ہو گئی جو امتِ اسلام پر مسلط کر دی گئی۔

اس دن کی یاد ہمیں امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی اس عظیم سیرت کی یاد دلاتی ہے کہ آپؑ نے ہمیشہ حق، اخلاق، عدل اور امن کو مقدم رکھا اور جنگ کو آخری چارۂ کار سمجھا۔

حقیقت یہ ہے کہ میدانِ صفین تلواروں کے ٹکراؤ سے پہلے ایک ایسا مقام تھا جہاں حکومتِ الٰہی اور علوی طرزِ حکمرانی کا موازنہ دنیا پرستی، فریب اور مکارانہ سیاست سے ہوا، تاکہ قیامت تک حق اور باطل کے درمیان حدِ فاصل واضح رہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button