عزاداریِ سیدالشہداء دینِ محمدی کی بقا: مولانا سید رضا حیدر زیدی

لکھنو: شاہی آصفی مسجد، لکھنو میں جمعہ 3 جولائی 2026 کو نمازِ جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید رضا حیدر زیدی، پرنسپل حوزۂ علمیہ حضرت غفران مآبؒ، کی اقتدا میں ادا کی گئی۔ خطبۂ جمعہ میں انہوں نے ایامِ عزائے حسینیؑ کی مناسبت سے فلسفۂ عزاداری، اعمالِ عاشورا، پیغامِ قرآن، جلوس ہائے عزا کے تحفظ اور امتِ مسلمہ کو درپیش موجودہ چیلنجز پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کہا کہ ایام عزا ہیں، اگرچہ عشرۂ اولِ محرم اختتام پذیر ہو چکا ہے، لیکن غمِ حسینی کی کیفیت اور عزاداری کی روح ہمیشہ زندہ رہنی چاہیے، کیونکہ عزاداریِ سیدالشہداء دینِ محمدی کی بقا، شعائرِ الٰہی کی حفاظت اور حق و باطل کے درمیان امتیاز کا مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عزاداری صرف گریہ و ماتم کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کو دینی، اخلاقی اور سماجی ذمہ داریوں کا شعور بھی عطا کرتی ہے۔
انہوں نے اعمالِ عاشورا میں وارد چار رکعت نماز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں سورۂ کافرون، سورۂ توحید، سورۂ احزاب اور سورۂ منافقون کی تلاوت درحقیقت ایک فکری و عملی منشور ہے، جو مؤمن کو توحید، استقامت، حق گوئی، دشمن شناسی اور نفاق سے بیزاری کا درس دیتا ہے۔
غزوۂ احزاب (جنگِ خندق) کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا سید رضا حیدر زیدی نے کہا کہ جب کفر اپنی پوری قوت کے ساتھ اسلام کے خلاف متحد ہو گیا تھا، اس وقت حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے عمرو بن عبدود کو واصلِ جہنم کرکے اسلام کو فیصلہ کن کامیابی سے ہمکنار کیا۔ اسی موقع پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: "علی کی ایک ضربت عبادتِ ثقلین سے افضل ہے۔”
انہوں نے سورۂ احزاب کی آیت ﴿الَّذِينَ يُبَلِّغُونَ رِسَالَاتِ اللَّهِ وَيَخْشَوْنَهُ وَلَا يَخْشَوْنَ أَحَدًا إِلَّا اللَّهَ﴾ کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ اعمالِ عاشورا میں اس سورت کی تلاوت اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ دنیا کی کسی طاقت، جبر یا ظلم سے مرعوب نہیں ہوتا۔
اسی طرح سورۂ احزاب کی آیت ﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ﴾ کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ آیت وفاداری، ایثار اور عہد کی پاسداری کا ابدی پیغام ہے۔ روایات میں مذکور ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے میدانِ کربلا میں متعدد اصحاب کی شہادت کے موقع پر اس آیت کی تلاوت فرمائی۔
خطبہ کے دوران مولانا سید رضا حیدر زیدی نے حالیہ جلوسِ عزا میں مبینہ طور پر زہریلی دوا تقسیم کئے جانے کے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے عزاداروں کو انتہائی بیدار اور محتاط رہنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ جلوسوں اور مجالس عزا کی حفاظت کے لئے منظم اور مؤثر انتظامات کئے جائیں۔
شہیدان کربلا حضرت سعید اور حضرت زہیر علیہما السلام کی وفاداری کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے انجمنوں سے اپیل کی کہ وہ کچھ ذمہ دار نوجوانوں کو معین کریں جو جلوسوں اور مجالس عزا پر مسلسل نظر رکھیں تاکہ کسی بھی تخریبی یا شرپسندانہ کوشش کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عزاداری کی حفاظت کرنے والے جوان بھی اجر و ثواب کے اعتبار سے کسی طرح عزاداری انجام دینے والوں سے کم فضیلت کے حامل نہیں۔
مولانا سید رضا حیدر زیدی نے امام علی رضا علیہ السلام
سے منقول اس روایت کو بھی بیان کیا کہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ماہِ محرم کے آغاز سے عاشورا تک مسلسل غم و اندوہ کی کیفیت میں رہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ معصومین علیہم السلام کی سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایامِ عزا میں انسان کا ظاہر و باطن غمِ حسین علیہ السلام سے آشنا ہونا چاہیے، جبکہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض مقامات پر اس تقدس کے برخلاف ہنسی مذاق اور غیر ضروری شور و غل بھی دیکھنے میں آتا ہے۔




