بھارت میں مسلمانوں کے خلاف منظم تشدد میں تشویشناک اضافہ؛ رپورٹ میں بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں پر سنگین الزامات
بھارت میں مسلمانوں کے خلاف منظم تشدد میں تشویشناک اضافہ؛ رپورٹ میں بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں پر سنگین الزامات
نئی دہلی۔ مسلم میرر (Muslim Mirror) کے ڈیٹا بینک پر مبنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت کی تقریباً 20 کروڑ مسلم آبادی کے خلاف مذہبی نفرت پر مبنی ہدفی جرائم میں مئی 2026 کے دوران غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹ کے مطابق، اس عرصے کے دوران ریکارڈ کیے گئے ایسے 100 فیصد واقعات بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیرِ اقتدار ریاستوں میں پیش آئے، جبکہ تقریباً 85 فیصد حملوں میں مبینہ طور پر بی جے پی سے وابستہ افراد یا اس کی اتحادی ہندو انتہاء پسند تنظیموں کے کارکن ملوث تھے۔
مسلم میرر کی رپورٹ میں اتر پردیش اور آسام میں مساجد اور مسلمانوں کے مکانات کو بلڈوزر کے ذریعہ مسمار کئے جانے، گائے کی مبینہ اسمگلنگ یا نقل و حمل کے الزام میں مسلم ڈرائیوروں پر تشدد، نیز مغربی بنگال اور دہلی میں مسلم تاجروں کی دکانیں زبردستی بند کرانے اور ان کے معاشی بائیکاٹ کی دھمکیوں جیسے متعدد واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ انتہا پسند عناصر کو حاصل مبینہ قانونی تحفظ اور بعض مقامات پر پولیس کی بے عملی یا مبینہ معاونت نے بھارت کی مسلم اقلیت میں خوف، عدم تحفظ اور بے یقینی کی فضا کو مزید گہرا کر دیا ہے۔




