لکھنؤ میں عشرۂ اول کے بعد بھی مجالسِ عزا کی رونق برقرار، شہر بھر میں خمسہ و عشرہ مجالس کا انعقاد

لکھنو۔ شہدائے کربلا کی یاد میں محرم الحرام کے عشرۂ اول کے اختتام کے بعد بھی لکھنؤ میں مجالسِ عزا کا سلسلہ پورے عقیدت و احترام کے ساتھ جاری ہے۔ شہر کی مختلف امام بارگاہوں، مساجد اور مومنین کے گھروں میں روزانہ مجالس منعقد ہو رہی ہیں، جن میں بڑی تعداد میں عزادارانِ امام حسین علیہ السلام شرکت کر رہے ہیں۔
گزشتہ برسوں کی روایت کے مطابق اس سال بھی شبیہ روضۂ کاظمین میں خمسہ مجالس کا سلسلہ جاری ہے، جہاں معروف خطیب مولانا سید عباس ارشاد نقوی مصائبِ اہلِ بیت علیہم السلام اور پیغامِ کربلا بیان کر رہے ہیں۔

دریائے گومتی کے کنارے واقع مہدی گھاٹ پر بھی حسبِ سابق خمسہ مجالس کا آغاز ہو چکا ہے۔ پہلی مجلس سے امامِ جمعہ لکھنؤ مولانا سید کلب جواد نقوی نے خطاب کرتے ہوئے واقعۂ کربلا کی تعلیمات، حق و باطل کی کشمکش اور سیرتِ امام حسین علیہ السلام کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا۔
تاریخی چھوٹا امام باڑہ میں منعقدہ مجلسِ عزا سے مولانا سید ضمیر عباس جعفری نے خطاب کیا، جبکہ شہر کی متعدد دیگر امام بارگاہوں، مساجد اور مومنین کی رہائش گاہوں پر بھی مجالسِ عزا اور مرثیہ و نوحہ خوانی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

خواتین کی مجالس بھی بڑی عقیدت کے ساتھ منعقد کی جا رہی ہیں۔ احاطہ مرزا علی خان میں سید اکبر رضا زیدی کی رہائش گاہ پر 11 محرم الحرام سے 17 محرم الحرام تک روزانہ شب 8 بجے خواتین کی مجالس منعقد ہو رہی ہیں۔ اسی طرح عزاخانہ سید اسلم زیدی، بڑا باغ، مفتی گنج میں 15 محرم الحرام سے 24 محرم الحرام تک خواتین کے لئے عشرۂ مجالس کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جن سے مختلف ذاکرات خطاب کر رہی ہیں۔
مجالس کے ساتھ شہر کے مختلف علاقوں میں عزاداری، مرثیہ خوانی اور نوحہ خوانی کی روح پرور محافل بھی جاری ہیں، جہاں اہلِ بیتؑ کے چاہنے والے بڑی تعداد میں شریک ہو کر شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔




