
اگرچہ اربعینِ حسینیؑ میں ابھی ایک ماہ سے زائد کا عرصہ باقی ہے، تاہم عراق کے جنوبی ترین علاقہ سے لاکھوں عاشقانِ امام حسین علیہ السلام نے "من البحر الی النحر” (سمندر سے نہر تک) کے شعار کے ساتھ کربلائے معلیٰ کی جانب اپنی روح پرور پیادہ روی کا آغاز کر دیا ہے۔
پچاس ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد شدید گرمی اور 600 کلومیٹر سے زیادہ طویل مسافت کے باوجود زائرین کا یہ سفر اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام سے بے مثال عشق، عقیدت، ایثار اور استقامت کی لازوال داستان رقم کر رہا ہے۔

اربعین 1448 ہجری کی مشی کا باضابطہ آغاز رأس البیشہ سے ہوا، جو ضلع فاو میں واقع عراق کا جنوبی ترین زمینی مقام اور کربلا کی جانب پیدل سفر کا سب سے دور دراز نقطۂ آغاز ہے۔
یہاں سے زائرین سخت گرمی اور دشوار حالات کے باوجود سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے روضۂ اقدس تک پہنچنے کے لئے 600 کلومیٹر سے زائد کا سفر طے کرتے ہیں۔
مڈل ایسٹ نیوز کے مطابق، اس سال یہ روحانی قافلہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں تقریباً دو ہفتے پہلے روانہ ہوا ہے۔

آغازِ مشی کے موقع پر رأس البیشہ میں فلسفۂ اربعین پر خطابات، اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام کی منقبت میں قصیدہ خوانی اور دیگر مذہبی تقریبات کا اہتمام کیا گیا، جنہوں نے زائرین کے روحانی جذبے اور شوقِ زیارت کو مزید جلا بخشی۔
توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ عراق اس سال کم از کم پچاس لاکھ غیر ملکی زائرین کی میزبانی کرے گا۔
اس مقصد کے لئے مختلف خدماتی کمیٹیاں تشکیل دی جا چکی ہیں، جبکہ ایران اور پاکستان سمیت متعدد ممالک کے ساتھ زائرین کی آمد و رفت کو سہل بنانے کے لئے بھی مربوط انتظامات کئے جا رہے ہیں۔
اسی سلسلہ میں سکیورٹی، طبی سہولیات، خدمات اور لاجسٹک منصوبہ بندی پر پیشگی کام جاری ہے تاکہ زیارتِ اربعین کے عظیم اجتماع کو بہترین انداز میں منظم کیا جا سکے۔
اربعین کے پیدل سفر کے پورے راستے میں عوامی اور مذہبی موکب زائرین کی خدمت کے لئے شب و روز مصروف ہیں۔
ان موکبوں میں کھانا، ٹھنڈا پانی، طبی امداد، آرام گاہیں اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
شدید گرمی اور طویل مسافت کے پیشِ نظر یہ خدمات زائرین کے لئے نہایت اہم اور ناگزیر حیثیت رکھتی ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال زیارتِ اربعین میں دو کروڑ دس لاکھ سے زائد زائرین نے شرکت کی تھی۔
اس سال مشی کے قبل از وقت آغاز نے اس توقع کو مزید تقویت دی ہے کہ اربعین 1448 ہجری میں دنیا بھر سے آنے والے عاشقانِ امام حسین علیہ السلام کی تعداد گزشتہ برسوں سے بھی زیادہ ہوگی۔
یہ عظیم روحانی اجتماع تحریک حسینیؑ کے آفاقی پیغام، عالمی اخوت، ایثار، استقامت اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام سے بے لوث محبت کا ایک زندہ اور درخشاں مظہر ہے۔




