شہرِ مقدس کربلا میں ’’13 محرم کی روایتی مجلسِ عزا‘‘ کا عظیم الشان انعقاد

۱۳ محرم الحرام کے موقع پر شہرِ مقدس کربلا میں ’’عزاء ثالث الإمام‘‘ (امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے تیسرے دن کی عزاداری) کی عظیم الشان اور روایتی تقریب تمام مذہبی ہیئتوں کی متحد، منظم اور یکجہت شرکت کے ساتھ منعقد ہوئی، جس میں زائرین اور مقامی عزاداروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
یہ روح پرور اور پُرشکوہ تقریب، جس کی بنیاد اور احیاء سن 2003ء میں بعثی حکومت کے خاتمے کے بعد رکھی گئی، اس سال بھی حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا اور قافلۂ اسیرانِ کربلا کے ساتھ ہمدردی کے اظہار کے طور پر شمعیں اٹھانے سے شروع ہوئی۔ جلوس شارع السدرہ سے روانہ ہوا، روضۂ مطہر امام حسین علیہ السلام کے صحن سے گزرا اور آخر میں حضرت قمر بنی ہاشم ابوالفضل العباس علیہ السلام کے روضۂ اقدس پر اختتام پذیر ہوا۔
ہمارے ساتھی نے اپنی رپورٹ میں اس تقریب کی تفصیلات اس طرح بیان کی ہیں، ملاحظہ فرمائیے:
۱۳ محرم الحرام کے موقع پر ’’عزاء ثالث الإمام‘‘ (امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے تیسرے دن کی عزاداری) کی یہ شاندار اور روایتی تقریب تمام مذہبی ہیئتوں کی متحد اور منظم شرکت کے ساتھ شہرِ مقدس کربلا میں منعقد ہوئی۔
یہ قدیم، اصیل اور انتہائی غم انگیز رسم، 2003ء میں عراق میں آنے والی تبدیلیوں کے فوراً بعد اہلِ بیت علیہم السلام کے مظلومانہ شعائر کی تجدید اور احیاء کے مقصد سے شروع کی گئی۔
ابتدائی برسوں میں یہ تقریب صرف ایک چھوٹے سے مذہبی ادارے ’’ہیئت عزاء سوم امام‘‘ (جو علاقہ باب السلالمہ سے وابستہ ہے) کے زیر اہتمام منعقد ہوتی تھی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہر سال اس کی عظمت، شان اور شرکاء کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔
اس سال یہ روحانی اجتماع کربلا میں شیعوں کے اتحاد و یکجہتی کی ایک عظیم علامت بن گیا، یہاں تک کہ شہر کی تمام قدیم، روایتی اور بڑی ہیئتیں، جن میں ’’باب الخان‘‘، ’’العباسیہ‘‘، ’’باب بغداد‘‘، ’’باب الطاق‘‘، ’’الحیدریہ‘‘، تمام حسینیے، تکایا، نیز کربلا کے بزرگ، معزز شخصیات، ریش سفید اور پیرغلام حضرات ایک ہی موکب اور ایک ہی صف میں شریک ہوئے۔
اس غم انگیز شب میں عاشقانِ امام حسین علیہ السلام نے ہاتھوں میں روشن شمعیں اٹھا کر، گریہ و زاری اور سوز و گداز سے بھرپور ماحول میں، کربلا کے تشنہ لب شہیدوں کی غربت کی یاد تازہ کرتے ہوئے شامِ غریباں کی تجدید کی۔
عزاداروں نے اپنے جلوس کا آغاز شارع السدرہ میں واقع ہیئت کے مرکزی دفتر سے کیا۔
وہ بینر اور پلے کارڈ اٹھائے، درد انگیز نوحے اور ماتمی نعرے بلند کرتے ہوئے پہلے روضۂ مطہر حضرت سید الشہداء علیہ السلام میں حاضر ہوئے، جہاں اہلِ بیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے ساتھ اپنے عہد کی تجدید کی، پھر بین الحرمین سے ہوتے ہوئے حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کے روضۂ اقدس میں پہنچے، جہاں روایتی سینہ زنی اور اختتامی عزاداری انجام دی گئی۔
یہ عظیم مذہبی تقریب پیر، ۱۳ محرم الحرام کو رات 8:30 بجے شروع ہوئی۔
جلوس کے آغاز سے قبل ہیئت کے مرکزی مقام پر وسیع پیمانے پر ضیافتِ اطعام اور مجالسِ خطاب کا بھی اہتمام کیا گیا۔
اس سال کی عزاداری کے اشعار اور نوحے اہلِ بیت علیہم السلام کے سوز خواں شاعر رشاد عبدالرسول الخفاجی نے روایتی انداز میں ترتیب دیے، جبکہ معروف شیعہ نوحہ خواں علی سعید الوائلی نے، جو گزشتہ برسوں میں عمار الکنانی، ملا نصیر، سید زرین اور سید عقیلی جیسے ممتاز نوحہ خوانوں کے جانشین کے طور پر یہ خدمت انجام دے رہے ہیں، مرثیہ خوانی اور عزاداری کی قیادت کی۔
یہ عظیم اور منفرد مذہبی اجتماع دنیا بھر کے لاکھوں ناظرین کے لیے متعدد بین الاقوامی شیعہ سیٹلائٹ چینلز پر براہِ راست نشر بھی کیا گیا۔




