13 محرم؛ حضرت عبداللہ بن عفیف اَزدی رضوان اللہ تعالی علیہ کی شہادت

واقعۂ کربلا کے بعد عبیداللہ بن زیاد کے ظلم و استبداد کے خلاف سب سے پہلی علانیہ آواز بلند کرنے والے حضرت عبداللہ بن عفیف اَزدی رضوان اللہ تعالی علیہ کو تاریخ اسلام میں جرأت، بصیرت اور حق گوئی کی روشن مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
کوفہ کے نابینا مگر بصیرت رکھنے والے اس بزرگ صحابی نے مسجدِ کوفہ میں ابنِ زیاد کی گستاخانہ تقریر کے جواب میں اہلِ بیت علیہم السلام کی حمایت اور ظلم کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔
انہوں نے یزیدی اقتدار کی کھل کر مذمت کی اور امام حسین علیہ السلام و اہلِ بیت علیہم السلام کی مظلومیت کو اجاگر کیا۔ ان کے اس جرات مندانہ موقف کے بعد انہیں شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔
قبیلہ اَزد کی وقتی مزاحمت کے باوجود آخرکار وہ گرفتار کر لئے گئے اور عبیداللہ بن زیاد کے دربار میں پیش کئے گئے، جہاں انہوں نے اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہتے ہوئے دوبارہ حق کی گواہی دی۔
بالآخر حضرت عبداللہ بن عفیف اَزدی رضوان اللہ تعالی علیہ کو ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کے جرم میں شہید کر دیا گیا۔
تاریخی روایات کے مطابق ان کی شہادت واقعۂ کربلا کے بعد یزیدی حکومت کے خلاف پہلی منظم اور علانیہ مزاحمت شمار کی جاتی ہے، جس نے بعد میں آنے والی تحریکوں کو فکری و عملی تقویت فراہم کی۔
حضرت عبداللہ بن عفیف اَزدی رضوان اللہ تعالی علیہ کی شہادت کو تاریخ میں حق و باطل کے درمیان جدوجہد کی ایک درخشاں علامت کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔




