شیعہ مرجعیت

بارہ محرم: کوفہ میں اسیرانِ اہلِ بیت علیه السلام کا ورود

بارہ محرم: کوفہ میں اسیرانِ اہلِ بیت علیه السلام کا ورود

12 محرم 61 ہجری کی صبح اہلِ حرم کا قافلہ شہرِ کوفہ میں داخل ہوا۔ کوفہ وہی شہر تھا جس نے حضرت امام حسین علیہ السلام کے وفادار اصحاب کو جنم دیا تھا، لیکن اب اسی شہر کے ماتھے پر عہد شکنی اور بے وفائی کا داغ ثبت ہو چکا تھا۔ صرف چالیس روز قبل یہی کوفہ حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام اور حضرت ہانی بن عروہ علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت کا گواہ بن چکا تھا، اور ہزاروں باشندوں نے خطوط لکھ کر امام حسین علیہ السلام کو مدد کی دعوت دی تھی، مگر پھر انہی میں سے بہت سے لشکرِ یزید میں شامل ہو گئے۔

حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کے لئے کوفہ کوئی اجنبی شہر نہ تھا۔ آپؑ نے 37 سے 40 ہجری تک اپنے والد ماجد امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے دورِ خلافت میں اسی شہر میں قیام فرمایا تھا۔ علمی، فکری اور ثقافتی اعتبار سے کوفہ شام سے بالکل مختلف تھا۔ یہی وجہ تھی کہ بہت سے کوفیوں کے دل حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ تھے، اگرچہ ان کی تلواریں آپؑ کے خلاف اٹھ چکی تھیں، جیسا کہ مشہور شاعر فرزدق نے کہا تھا۔

کوفہ کی فضا نہایت عجیب تھی۔ عمر بن سعد ملعون اپنی فوج کے ساتھ پہلے ہی پہنچ چکا تھا اور پورے شہر میں سخت پہرہ تھا۔ عبیداللہ بن زیاد ملعون کے حکم پر شہدائے کربلا کے مقدس سروں کو بازاروں اور چوراہوں میں پھرایا جا رہا تھا تاکہ حکومت اپنی نام نہاد فتح کا مظاہرہ کر سکے اور لوگوں کے دلوں میں خوف و دہشت بٹھا دے۔ ایک گروہ ظلم کے اس انجام پر اشک بار تھا، دوسرا خوشیاں منا رہا تھا اور ایک بڑی تعداد حیرت، خوف اور خاموشی کے عالم میں یہ المناک منظر دیکھ رہی تھی۔

جب قافلے کو دارالامارہ کی طرف لے جایا گیا تو حضرت اُمِّ کلثوم سلام اللہ علیہا نے بلند آواز میں فرمایا: "اے اہلِ کوفہ! کیا تمہیں اللہ اور اس کے رسولؐ سے شرم نہیں آتی؟” جب بعض لوگ اسیر بچوں پر ترس کھا کر روٹیاں اور کھجوریں لے آئے تو آپؑ نے وہ چیزیں زمین پر ڈال دیں اور فرمایا: "اے اہلِ کوفہ! صدقہ ہم اہلِ بیتؑ پر حرام ہے۔” یہ سنتے ہی بہت سے لوگ بے اختیار رونے لگے۔ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے شدید بخار اور زنجیروں کے باوجود لوگوں کو روتا دیکھ کر فرمایا: "اگر تم ہمارے حال پر رو رہے ہو، تو پھر ہمیں قتل کس نے کیا ہے؟”

حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کا تاریخی خطبہ تاریخِ اسلام کے عظیم ترین خطبات میں شمار ہوتا ہے۔ بشیر بن خزیم اسدی کہتے ہیں: "خدا کی قسم! میں نے حضرت زینب سلام اللہ علیہا سے زیادہ باوقار، فصیح اور بلیغ خاتون نہیں دیکھی، ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام بول رہے ہوں۔” آپؑ نے اہلِ کوفہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہاری مثال اس عورت کی سی ہے جس نے محنت سے سوت کاتا، پھر خود ہی ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ آپؑ نے فرمایا کہ تم نے خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے، جنت کے جوانوں کے سردار کو شہید کر دیا اور اللہ کے غضب کو خرید لیا۔ خطبہ ختم ہوا تو پورا مجمع آبدیدہ ہو گیا، عورتیں بین کرنے لگیں اور مرد اپنے کئے پر افسوس کا اظہار کرنے لگے۔ حضرت امام سجاد علیہ السلام نے آپؑ کی تعریف میں فرمایا: "آپ ایسی عالمہ ہیں جنہیں کسی نے تعلیم نہیں دی۔”

اس کے بعد حضرت فاطمہ بنت الحسین سلام اللہ علیہا، حضرت اُمِّ کلثوم سلام اللہ علیہا اور حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے بھی تاریخی خطبات ارشاد فرمائے جنہوں نے حکومتِ وقت کے جھوٹے پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا۔

شہدائے کربلا کی تدفین کے حوالے سے روایات میں اختلاف ہے، تاہم اکثر شیعہ مصادر کے مطابق حضرت امام زین العابدین علیہ السلام اللہ کے خصوصی اذن سے کربلا پہنچے۔ قبیلۂ بنی اسد کے افراد پہلے سے موجود تھے، مگر بے سر جنازوں کو پہچاننے میں تذبذب کا شکار تھے۔ آپؑ نے تمام شہداء کی نشاندہی فرمائی اور اپنے والد حضرت امام حسین علیہ السلام کو اپنے دستِ مبارک سے سپردِ خاک کیا۔ آپؑ نے بتایا کہ حضرت عباس علیہ السلام دریائے علقمہ کے کنارے مدفون ہیں جبکہ دیگر شہداء روضۂ اقدس کے احاطے میں آرام فرما ہیں۔

یہ ایام تاریخِ اسلام کے نہایت دردناک مگر ایمان افروز ابواب ہیں۔ تلواریں جسموں کو زخمی کر سکتی ہیں، مگر حق کی آواز کو کبھی خاموش نہیں کر سکتیں۔ کربلا کی سرزمین آج بھی یہی پیغام دیتی ہے کہ ظلم وقتی طور پر غالب آ سکتا ہے، مگر حق، صبر، استقامت اور قربانی کی روشنی کبھی بجھ نہیں سکتی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button