خبریں

ہندوستان بھر میں عقیدت و احترام کے ساتھ مجالسِ شامِ غریباں منعقد؛ لکھنؤ کے امام باڑہ غفرانمآب میں 1345 ہجری سے جاری تاریخی روایت برقرار

شہدائے کربلا کی عظیم قربانی، اسیرانِ کربلا کی مظلومیت اور اہلِ بیت علیہم السلام کے مصائب کی یاد میں ملک بھر میں عقیدت و احترام کے ساتھ مجالسِ شامِ غریباں منعقد کی گئیں، جن میں عزاداروں کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

شہرِ عزا لکھنؤ میں امام باڑہ آغا ہومیو، تاریخی چھوٹا امام باڑہ، امام باڑہ غفرانمآب، سعیدالملت ہال (شیعہ کالج) اور شبیہِ روضۂ کاظمین سمیت متعدد مقامات پر مجالسِ شامِ غریباں کا انعقاد ہوا، جہاں علماء و ذاکرین نے واقعۂ کربلا، اسیرانِ اہلِ بیت علیہم السلام کے مصائب اور شامِ غریباں کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

امام باڑہ غفرانمآب میں منعقد ہونے والی مجلسِ شامِ غریباں کی ایک تاریخی روایت ہے، جو 1345 ہجری سے مسلسل جاری ہے۔ اس سلسلے کی پہلی مجلس مرحوم مولانا سید ہادی المعروف "کلن صاحب” نے خطاب کی۔ بعد ازاں مولانا سید کلب حسین نقوی مرحوم نے تاحیات اس مجلس سے خطاب کیا۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے فرزند مرحوم مولانا سید کلب عابد نقوی مرحوم نے اس روایت کو برقرار رکھا، اور ان کے بعد سے اب تک مولانا سید کلب جواد نقوی مسلسل مجلسِ شامِ غریباں سے خطاب کر رہے ہیں۔

لکھنؤ کے علاوہ دہلی، ممبئی، حیدرآباد، رانچی اور ملک کے دیگر چھوٹے بڑے شیعہ نشین شہروں اور دیہاتوں میں بھی مجالسِ شامِ غریباں منعقد ہوئیں، جہاں عزاداروں نے حضرت امام حسین علیہ السلام، ان کے باوفا اصحاب اور اسیرانِ اہلِ بیت علیہم السلام کی یاد میں پرسہ داری کی اور واقعۂ کربلا کے پیغامِ صبر، استقامت اور حق پر ثابت قدمی کو اجاگر کیا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button