پاکستان

پورے پاکستان میں یومِ عاشور کے جلوس، مجالس، سخت سیکیورٹی انتظامات

پورے پاکستان میں 10 محرم الحرام کے موقع پر نواسۂ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کی عظیم قربانی کی یاد میں یومِ عاشور مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں مجالسِ عزا منعقد ہوئیں جبکہ ماتمی جلوس بھی برآمد ہوئے۔

کراچی میں نشتر پارک سے برآمد ہونے والا مرکزی جلوس صدر رینبو سینٹر پہنچ گیا، جہاں مرکزی مجلس سے علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے خطاب کیا۔ لاہور میں مرکزی جلوس نثار حویلی اندرون موچی گیٹ سے برآمد ہو کر اپنے مقررہ راستوں پر گامزن رہا۔ پشاور میں مختلف امام بارگاہوں سے 12 جلوس برآمد ہونے کا سلسلہ جاری رہا، جہاں پہلا جلوس امام بارگاہ سید علی شاہ رضوی سے نکالا گیا۔

کوئٹہ میں علمدار روڈ سے مرکزی جلوس برآمد ہوا جبکہ شہر میں موبائل فون سروس معطل رہی۔ بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو کے مطابق صوبے بھر میں 10 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات کئے گئے ہیں تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔

ملتان میں امام بارگاہ حرا حیدریہ سے مرکزی جلوس برآمد ہو کر درگاہ شاہ شمس تبریز پر اختتام پذیر ہونے کی تیاری میں رہا، جبکہ شہر میں مجموعی طور پر 116 جلوس برآمد ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا۔ جھنگ میں 249 جلوس اور 164 مجالس کا انعقاد کیا گیا، جبکہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مرکزی جلوس امام بارگاہ حسینیہ جھنگ روڈ سے برآمد ہوا۔

مظفر گڑھ میں 165 جلوس اور 279 مجالس منعقد کی گئیں جبکہ ضلع بھر میں سیکیورٹی کے لیے 3 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے۔ راجن پور میں بھی جلوسوں اور مجالس کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے گئے اور موبائل و انٹرنیٹ سروس معطل رہی۔

حیدرآباد میں مرکزی جلوس قدم گاہ مولا علی سے برآمد ہوا جو مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا کربلا دادن شاہ پر اختتام پذیر ہوگا۔ ایس ایس پی حیدرآباد کے مطابق جلوس کی سیکیورٹی پر 4 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کیے گئے اور کنٹرول روم قائم کر کے نگرانی کا نظام فعال رکھا گیا۔
نواب شاہ میں مرکزی جلوس امام بارگاہ مرتضوی سے برآمد ہوا جبکہ سکھر کے علاقے روہڑی میں نو ڈھالہ تعزیہ جلوس بعد نماز ظہرین اپنے آخری مرحلے کے لیے روانہ ہوا، جو شہداء قبرستان روہڑی میں اختتام پذیر ہوگا۔
ملک بھر میں یومِ عاشور کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، جلوسوں کے راستوں پر پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے تعینات رہے جبکہ سی سی ٹی وی کیمروں اور کنٹرول رومز کے ذریعے مسلسل نگرانی کی گئی۔ بیشتر شہروں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل رہی۔

مجموعی طور پر پورے پاکستان میں یومِ عاشور کے جلوس اور مجالس پرامن ماحول میں جاری رہیں، اور عزادارانِ امام حسین علیہ السلام نے کربلا کے پیغامِ حق، حریت اور قربانی کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button