عاشورا: معرکہ حق و باطل میں وفا، ایثار اور قربانی کی لازوال داستان

10 محرم الحرام 61 ہجری وہ عظیم اور فیصلہ کن دن ہے جس نے حق و باطل کے درمیان روشن حدِ فاصل قائم کر دی۔ کربلا میں نواسۂ رسولؐ امام حسین علیہ السلام اور آپؑ کے وفادار اصحاب نے ظلم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کے بجائے شہادت کو گلے لگا کر عزت، حریت اور استقامت کا درس دیا۔ واقعۂ کربلا محض جنگ نہیں بلکہ دینِ محمدیؐ کی بقا اور حق و صداقت کی سربلندی کی لازوال داستان ہے۔
شبِ عاشورا کو امام حسین علیہ السلام نے ایک رات کی مہلت طلب فرمائی تاکہ نماز، دعا اور تلاوتِ قرآن میں وقت گزاریں۔ خیمہ گاہِ حسینیؑ میں ساری رات ذکر و مناجات کی صدائیں گونجتی رہیں۔ امامؑ نے اصحاب کو جانے کی اجازت دی، مگر حضرت عباس، مسلم بن عوسجہ، حبیب بن مظاہر، زہیر بن قین، بریر بن خضیر اور عابس شاکری علیہم السلام نے آخری سانس تک ساتھ نہ چھوڑنے کا اعلان کیا۔
صبحِ عاشورا امام حسین علیہ السلام نے نمازِ فجر کے بعد دعا فرمائی اور لشکر کی صف بندی کی۔ حضرت ابوالفضل العباسؑ کو علمِ لشکر، زہیر بن قینؑ کو میمنہ اور حبیب بن مظاہرؑ کو میسرہ کا سالار مقرر کیا۔ عمر بن سعد نے اپنا وسیع لشکر تقسیم کیا اور تاریخ ساز معرکہ شروع ہوا۔
اصحابِ حسینی کی قربانیاں: جنگ شروع ہوتے ہی اصحاب یکے بعد دیگرے میدان میں اترے، امامؑ سے اجازت لیتے اور جان نچھاور کر دیتے۔ بریر بن خضیر، نافع بن ہلال، جون بن حوی، حنظلہ بن اسعد، عبدالرحمن ارحبی، عمرو بن قرظہ اور عابس بن ابی شبیب علیہم السلام نے شجاعت کی لازوال مثالیں قائم کیں۔ نمازِ ظہر کے وقت سعید و زہیر علیہما السلام نے اپنے جسموں کو امامؑ کے لیے ڈھال بنا لیا۔
حر بن یزید ریاحی علیہ السلام آخری لمحوں میں حق پہچان کر ندامت کے ساتھ امامؑ کے پاس آئے اور توبہ کی درخواست کی۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ تمہاری توبہ قبول فرمائے گا۔ حرؑ نے مردانہ وار جنگ کی اور شہادت پائی؛ امامؑ نے فرمایا کہ تم دنیا و آخرت میں آزاد ہو، جیسا تمہاری ماں نے نام رکھا تھا۔
جوانانِ بنی ہاشم: اصحاب کی شہادت کے بعد بنی ہاشم کے نوجوان میدان میں اترے۔ حضرت علی اکبرؑ نے اپنے خون سے جوانمردی کی نئی تاریخ رقم کی۔ قاسم بن حسنؑ، عبداللہ بن حسنؑ، جعفر بن علیؑ، عثمان بن علیؑ اور دیگر علوی جوان یکے بعد دیگرے قربان ہوئے۔ امامؑ ہر شہید کے جسد پر حاضر ہوتے اور صبر کا بے مثال مظاہرہ فرماتے۔
حضرت عباس علیہ السلام: کربلا کا تذکرہ آپؑ کے بغیر ادھورا ہے۔ بچوں کی پیاس دیکھ کر آپؑ فرات کی طرف گئے، پانی تک پہنچے مگر تشنہ بچوں کی یاد میں خود پانی نہ پیا اور مشکیزہ بھر کر واپس روانہ ہوئے۔ دشمن نے راستے میں دونوں بازو قلم کر دیے، پھر بھی آپؑ نے وفا کا دامن نہ چھوڑا اور شہید ہوگئے۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ اب میری کمر ٹوٹ گئی اور تدبیر ختم ہو گئی۔
حضرت علی اصغر علیہ السلام: تمام ساتھیوں کی شہادت کے بعد امامؑ شیر خوار فرزند کو میدان میں لائے اور دشمن سے رحم کی درخواست کی، مگر حرملہ کے تیر نے ننھے گلے کو چھلنی کر دیا۔ امامؑ نے خون ہاتھوں میں لے کر آسمان کی طرف بلند کیا اور صبر و رضا کا اظہار فرمایا۔
عابس، زہیر، بریر اور نافع علیہم السلام نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا، یہاں تک کہ دشمن ان کے مقابل آنے سے خوف کھاتا تھا۔
عصرِ عاشورا میں جب سب شہید ہوگئے تو امام حسین علیہ السلام تنہا رہ گئے۔ آخری نصیحت کے باوجود دشمن کے دل سخت رہے اور ہر طرف سے حملے ہوئے۔ تیر، نیزے اور تلواروں کی بارش میں بھی امامؑ ثابت قدم اور صبر کا پیکر رہے، اور بالآخر راہِ خدا میں جان قربان کر دی۔
اسارت اور بقائے پیغام: شہادت کے بعد خیمے لوٹے گئے اور اہلِ بیتؑ کو اسیر کیا گیا۔ یہاں سے کربلا کا دوسرا مرحلہ شروع ہوا — حضرت زینبؑ اور امام زین العابدینؑ کے کوفہ و شام میں خطبات نے یزیدی ظلم بے نقاب کیا اور پیغامِ کربلا کو ہمیشہ زندہ کر دیا۔
ابدی پیغام: حق وقتی طور پر مظلوم ہو سکتا ہے مگر مغلوب نہیں، اور باطل غالب دکھائی دے سکتا ہے مگر کامیاب نہیں۔ امام حسین علیہ السلام نے ثابت کیا کہ عزت کی موت ذلت کی زندگی سے بہتر ہے۔ آج بھی ظلم کے خلاف آواز کربلا کی یاد تازہ کرتی ہے، اور یہی عاشورا کا آفاقی اور عالمگیر پیغام ہے کہ حق کے لیے قربانی ہی حقیقی کامیابی ہے۔




