افریقہخبریں

تنزانیہ میں محرم اور عاشورائے حسینی کی پرشکوہ مجالس و جلوس

ماہِ محرم کی آمد کے ساتھ ہی تنزانیہ کی سڑکیں، گلیاں اور مساجد سیاہ پوش ہو جاتی ہیں، جہاں اس ملک کے شیعہ مسلمان دیگر مسلمانوں کے ہمراہ انتہائی عقیدت اور جوش و جذبے کے ساتھ حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام کی عزاداری میں شریک ہوتے ہیں۔

یہ مذہبی روایت نہ صرف تاریخی ہجرت کے پس منظر سے جڑی ہوئی ہے بلکہ آج مشرقی افریقہ میں باہمی ہم آہنگی، اخوت اور اتحاد کی ایک نمایاں علامت بن چکی ہے۔

آئیے اس حوالے سے ہمارے نمائندے کی تیار کردہ رپورٹ ملاحظہ کیجیے:

ماہِ محرم کے آغاز کے ساتھ ہی جنوب مشرقی افریقہ کا ملک تنزانیہ عاشورائی رنگ میں رنگ جاتا ہے۔

اس ملک کے شیعہ، خصوصاً ہندوستانی نژاد خوجہ برادری، مجالسِ عزا اور دیگر مذہبی تقریبات کا انعقاد کرکے واقعۂ کربلا اور تحریکِ عاشورا کی یاد تازہ رکھتے ہیں۔

الجزیرہ اور تنزانیہ کے مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، خوجہ برادری نے انیسویں صدی میں قحط اور مذہبی دباؤ کے باعث ہندوستان سے مشرقی افریقہ ہجرت کی تھی اور یہی وہ اولین گروہ تھا جس نے اس خطے میں شعائرِ حسینی کی بنیاد رکھی۔

تنزانیہ کے تجارتی دارالحکومت دارالسلام میں واقع مرکزی شیعہ مسجد ہر سال “یومِ حسین” کے عنوان سے خصوصی تقریب کا اہتمام کرتی ہے، جس میں اہلِ سنت اور دیگر اسلامی مکاتبِ فکر کے نمائندے بھی شرکت کرتے ہیں۔

ان اجتماعات میں سواحیلی زبان میں بھی خطابات کیے جاتے ہیں تاکہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی تحریک کے مقاصد اور مکتبِ اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات عام لوگوں تک مؤثر انداز میں پہنچائی جا سکیں۔

اسی طرح جزیرہ زنجبار، جہاں مقامی شیعہ آبادی کے علاوہ بحرینی اور عمانی عرب نژاد شیعہ بھی آباد ہیں، ایامِ اربعین میں عظیم الشان عزاداری کی تقریبات کا مرکز بن جاتا ہے۔

ان تقریبات کے دوران حضرت امام حسین علیہ السلام کے گھوڑے ذوالجناح کی علامتی شبیہ کو جلوس کی صورت میں گلیوں اور شاہراہوں سے گزارا جاتا ہے تاکہ کربلا کے المیے اور امام حسین علیہ السلام کی مظلومیت کو تمام مسلمانوں کے سامنے اجاگر کیا جا سکے۔

بی بی سی سواحیلی کے مطابق محرم کے دوران سڑکیں، شاہراہیں اور مساجد سیاہ کپڑوں اور سرخ و زرد رنگ کے بینروں سے آراستہ کی جاتی ہیں، جبکہ یکم محرم سے دسویں محرم تک مجالسِ روضہ، واقعۂ کربلا کی علامتی جھانکیاں اور نذر و نیاز کی تقسیم کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

تنزانیہ کے شیعہ اپنی عزاداری کی تقریبات کو باہمی مشاورت اور منظم منصوبہ بندی کے ساتھ اس انداز میں ترتیب دیتے ہیں کہ مختلف پروگرام ایک دوسرے سے متصادم نہ ہوں۔

یہ نظم و ضبط، باہمی تعاون اور یکجہتی عاشورائی ثقافت سے ان کی گہری وابستگی اور براعظم افریقہ میں حضرت امام حسین علیہ السلام کے ایثار، قربانی اور عدل و انصاف کے پیغام کو زندہ رکھنے کی بھرپور کوشش کا مظہر ہے

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button