ایران

بندرعباس میں ’’علم شوی‘‘ کی روایت؛ عزائے حسینی کے فروغ کی تین صدیوں پرانی یادگار

بندرعباس کے عوام کی قدیم ترین محرم کی عزائی روایت ’’علم شوی‘‘ ہر سال دو محرم الحرام کو خلیج فارس کے ساحل پر عقیدت مندوں اور عزاداروں کی پرجوش شرکت کے ساتھ منعقد کی جاتی ہے۔

یہ ایک تاریخی اور معنوی رسم ہے جس میں ثقافتِ عاشورا اور جنوبی ایران کی مقامی روایات کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ یہ روایت صدیوں سے نسل در نسل منتقل ہوتی آرہی ہے اور آج بھی اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ برقرار ہے۔

دو محرم الحرام کے موقع پر بندرعباس کا ساحلِ خلیج فارس ایک بار پھر اس روح پرور اور منفرد مذہبی تقریب کا گواہ بنا۔

تین صدیوں سے زائد قدامت رکھنے والی یہ رسم جنوبی ایران میں شیعہ عزاداری اور مقامی ثقافت کے گہرے تعلق کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

اس روحانی تقریب میں ’’علم‘‘، جو اہلِ بیت علیہم السلام کی یاد اور ان سے عقیدت کی علامت ہوتے ہیں، مخصوص افراد یعنی ’’علم کشوں‘‘ کے ذریعہ سمندر تک لے جائے جاتے ہیں۔

جوان اور بزرگ عزادار سینے تک پانی میں اتر کر صلوات اور مخصوص دعائیں پڑھتے ہیں، جبکہ علم کو سمندر کے پانی سے غسل دیا جاتا ہے۔ یہ عمل ان پرچموں کی علامتی تطہیر کی نمائندگی کرتا ہے جو بعد ازاں عاشورا کے جلوسوں میں عزاداروں کے آگے آگے رہتے ہیں۔

اس کے بعد پرچموں کو حسینیہ دوازدہ امام (منبرِ گپ) واپس لایا جاتا ہے، جو بندرعباس کی قدیم ترین امام بارگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس حسینیہ کی بنیاد صفوی دور میں حیدرآباد دکن سے آنے والے شیعہ خاندانوں نے رکھی تھی۔

حسینیہ میں پرچموں کو نذری کپڑوں اور رنگ برنگی چادروں سے آراستہ کیا جاتا ہے، جبکہ گلاب سے معطر اور شستہ کئے گئے ’’سرشدہ‘‘ پرچموں کے اوپر نصب کئے جاتے ہیں۔

تین محرم سے نو محرم تک علاقہ والے نذر و نیاز کے طور پر علم کو اپنے گھروں میں مدعو کرتے ہیں۔ اس موقع پر اہلِ محلہ اور ہمسایوں کی شرکت سے مجالسِ عزا منعقد کی جاتی ہیں۔

اسی طرح یہ بھی ایک قدیم روایت ہے کہ حاجت مند افراد اپنی مرادوں کی تکمیل کی نیت سے علم کشوں پر ’’نقل‘‘ (چینی چڑھے بادام یا مٹھائی) نچھاور کرتے ہیں اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے وسیلے سے بارگاہِ الٰہی میں دعا کرتے ہیں۔

’’علم شوی‘‘ کی یہ تاریخی رسم، دیگر مقامی محرم کی عزائی روایات جیسے بیٹھ کر سینہ زنی، علم گردانی، حلیمِ جَم کی تیاری، ’’چکچکو‘‘ اور تعزیہ خوانی کے ساتھ ایران کے قومی غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کی جا چکی ہے۔

صوبہ ہرمزگان کے محکمۂ ثقافتی ورثہ کے مطابق حسینیہ دوازدہ امام (منبرِ گپ) کو بھی سن 1381 ہجری شمسی میں قومی آثار کی فہرست میں نمبر 6768 کے تحت رجسٹر کیا گیا تھا۔

یہ قدیم اور روحانی روایت آج بھی پورے وقار، عقیدت اور محبت کے ساتھ جاری ہے اور اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ عشقِ حسین علیہ السلام کس طرح خلیج فارس کے ساحل پر بسنے والے لوگوں کے دلوں کو ایک لڑی میں پرو دیتا ہے۔ یہ رسم اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ پیغامِ عاشورا زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہوکر مختلف ثقافتوں میں اپنی تاثیر برقرار رکھتا ہے اور نسلوں کو امام حسین علیہ السلام کے مقصدِ قیام سے جوڑے رکھتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button