ایران کے صوبہ فارس میں 600 سالہ قدیم "عاشورائی خیموںِ زرقان" کی روایت

ایران کے صوبہ فارس کے تاریخی شہر زرقان کے مرد حضرات ماہِ محرم کی آمد سے قبل بے مثال عوامی یکجہتی اور "لبیک یا حسینؑ” کی صداؤں کے ساتھ 12 میٹر سے زائد بلند عظیم خیمے نصب کرتے ہیں، تاکہ صفوی دور سے چلی آنے والی اس تاریخی رسم کو زندہ رکھ سکیں، جو قومی ثقافتی ورثے کے طور پر بھی رجسٹرڈ ہو چکی ہے۔
ہمارے نمائندے نے اپنی رپورٹ میں اس موضوع کا جائزہ لیا ہے، ملاحظہ فرمائیے:
ماہِ محرم کی آمد کے ساتھ ہی ایران کے صوبہ فارس کا شہر زرقان ایک مرتبہ پھر ایران کی منفرد اور شاندار ترین عاشورائی رسومات میں سے ایک کا مرکز بن جاتا ہے۔
"عاشورائی خیموںِ زرقان” کے نام سے معروف یہ قدیم روایت صفوی دور سے تعلق رکھتی ہے اور صدیوں سے اس خطے کی مذہبی اور سماجی شناخت کی نمائندہ سمجھی جاتی ہے۔
یہ قومی رسم، جو سن 1391 ہجری شمسی میں ملک کے معنوی آثار کی فہرست میں شامل کی گئی، عوامی اتحاد، جوانمردی اور باہمی ہمدردی کی ایک مکمل اور دلکش تصویر پیش کرتی ہے۔
اس تقریب میں 50 مربع میٹر سے زائد رقبے اور 12 میٹر سے زیادہ بلندی رکھنے والے عظیم خیمے، چھ بلند لکڑی کے ستونوں پر نصب کیے جاتے ہیں، جنہیں سرخ حسینی پرچموں سے مزین کیا جاتا ہے۔
ان خیموں کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہر خیمہ نصب کرنے کے لیے شہر کے 150 سے زائد مرد حضرات باہم تعاون کرتے ہوئے ایک منظم اجتماعی عمل کے ذریعے ایک یادگار منظر تخلیق کرتے ہیں۔
اس رسم کے مراحل نہایت دیدنی اور انتہائی منظم ہوتے ہیں۔
سب سے پہلے لکڑی کے ستونوں کو تقریباً 45 درجے کے زاویے سے حسینیہ کی دیواروں کے ذریعے اوپر کھینچا جاتا ہے اور ان کی بنیادوں کو مضبوطی سے اپنی جگہ پر جما دیا جاتا ہے۔
اس کے بعد خیمے کا بھاری اور وسیع کپڑا ستونوں پر پھیلایا جاتا ہے اور اس کے کناروں سے مضبوط رسیاں لٹکا دی جاتی ہیں۔
تقریب کے انتہائی اہم اور پُرجوش مرحلے میں مرد حضرات "یا حسینؑ”، "یا علیؑ” اور "یا زینبؑ” کی ہم آواز صداؤں کے ساتھ حسینیہ کی چھت کے دوسرے کنارے سے رسیوں کو کھینچتے ہیں، یہاں تک کہ خیمہ آہستہ آہستہ پوری شان کے ساتھ بلند ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا روح پرور اور شاندار منظر ہوتا ہے جو حاضرین کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو اور دلوں میں گہری کیفیت پیدا کر دیتا ہے۔
یہ خیمے 13 محرم تک اپنی جگہ قائم رہتے ہیں۔
ان دنوں میں زرقان کی حسینیائیں ان روایتی سایہ دار خیموں کے نیچے مختلف مذہبی پروگراموں کی میزبانی کرتی ہیں، جن میں صبح کے وقت زیارتِ عاشورا کی تلاوت اور مجلسِ عزا، شام کے وقت قدیم تعزیوں کی پیشکش، جبکہ رات میں پُرشکوہ زنجیر زنی اور سینہ زنی کی عزادارانہ تقریبات شامل ہوتی ہیں، تاکہ حضرت سید الشہداء امام حسینؑ سے محبت اور عقیدت کو نسل در نسل منتقل کیا جا سکے۔



