عام قتل میں قاتل وہی ہوتا ہے جو براہِ راست قتل انجام دے، لیکن معصومین علیہم السلام خصوصاً امام حسین علیہ السلام کے قتل میں شریک تمام افراد قاتل کے حکم میں ہیں: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی

مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ کا روزانہ علمی نشست، بروز پیر 29 ذی الحجہ 1447 ہجری کو منعقد ہوئی۔
اس نشست میں حسبِ سابق حاضرین کی جانب سے مختلف فقہی مسائل کے بارے میں کئے گئے سوالات کے جوابات دیے گئے۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے قتل کے بعض احکام کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا: "قتل کے ارتکاب میں بنیادی معیار ہمیشہ وہ شخص ہوتا ہے جو براہِ راست قتل انجام دے اور جس کے ہاتھ سے قتل واقع ہو، مگر یہ کہ سبب، مباشر سے زیادہ قوی ہو۔ مثال کے طور پر اگر قتل کا براہِ راست مرتکب کوئی مجنون، نابالغ اور غیر مکلف فرد، یا کوئی جانور ہو، تو اس صورت میں حکم سبب پر مترتب ہوگا۔ اس کے علاوہ دیگر تمام صورتوں میں احکام کا مدار مباشر، یعنی قتل انجام دینے والے شخص پر ہوتا ہے۔”
معظم لہ نے مزید فرمایا: "روایات میں وارد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ انبیاء اور اولیاء کے قاتلوں کو معاف نہیں فرمائے گا۔”
امام حسین علیہ السلام کے قتل کے حوالے سے آپ نے فرمایا: "بلاشبہ مذکورہ حکم عام افراد کے قتل سے متعلق ہے، لیکن معصومین علیہم السلام، بالخصوص حضرت امام حسین علیہ السلام کے قتل کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ امام حسین علیہ السلام کے قتل میں، دیگر تمام قتلوں کے برعکس، ہر وہ شخص جس نے اس جرم میں کسی بھی نوعیت کا کردار ادا کیا ہو، قاتل کے حکم میں شمار ہوگا۔ لہٰذا جس طرح شمر قاتل ہے، اسی طرح ابن سعد بھی قاتل ہے، ابن زیاد بھی قاتل ہے، اور یزید بھی قاتل ہے۔”




