مذہبی رواداری کے دعووں میں تضاد؛ امارات نے محرم و صفر کی مجالس حتیٰ کہ گھروں میں منعقد کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی
مذہبی رواداری کے دعووں میں تضاد؛ امارات نے محرم و صفر کی مجالس حتیٰ کہ گھروں میں منعقد کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی
متحدہ عرب امارات، جو اپنی وسیع تشہیری مہمات کے ذریعہ ہمیشہ خود کو خطے میں مذہبی آزادی اور کثرتِ مذہبیت کا علمبردار قرار دیتا ہے، نے ایک غیر معمولی اور سخت اقدام کرتے ہوئے ماہِ محرم اور صفر کے دوران ہر قسم کی عزاداری کی تقریبات کے انعقاد پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔
شیعہ خبر رساں ایجنسی کے مطابق، شارجہ کے ادارۂ اوقافِ جعفریہ کے رسمی بیان کی بنیاد پر یہ سخت پابندی صرف مساجد اور حسینیوں تک محدود نہیں، بلکہ شہریوں کے نجی گھروں اور حتیٰ کہ آن لائن لائیو نشریات کے ذریعے منعقد ہونے والے پروگراموں پر بھی لاگو ہوگی۔
اماراتی حکام نے مساجد میں ہر قسم کے نذرانے، نیاز اور عزاداروں کی پذیرائی کے انتظامات پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔
شیعہ مذہبی شعائر پر اس نوعیت کی سخت پابندیوں اور محدودیتوں نے مختلف حلقوں میں شدید تنقیدی ردِعمل کو جنم دیا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امارات کے انسانی حقوق سے متعلق دعووں اور اس کے مشہور ’’وزارتِ تسامح‘‘ (Ministry of Tolerance) کے نعرے کو سوالیہ نشان بنا دیتا ہے اور مذہبی آزادیوں کے معاملے میں دوہرے معیار کی عکاسی کرتا ہے۔
بعض ناقدین کے مطابق، اگرچہ امارات خود کو مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کا مرکز قرار دیتا ہے، لیکن شیعہ مذہبی شعائر پر عائد کی جانے والی یہ پابندیاں ان دعووں سے مطابقت نہیں رکھتیں اور مذہبی آزادی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہیں۔




