افغانستان

مغربی افغانستان میں عوامی احتجاج کا خونریز کریک ڈاؤن

مغربی افغانستان میں عوامی احتجاج کا خونریز کریک ڈاؤن

افغانستان کے صوبہ ہرات کے جبرئیل علاقہ میں خواتین کی حالیہ گرفتاریوں کے خلاف شہریوں کے احتجاجی مظاہروں کو طالبان فورسز نے سخت تشدد اور براہِ راست فائرنگ کے ذریعہ منتشر کر دیا۔

رپورٹس کے مطابق طالبان جنگجوؤں نے مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے اسلحے کا استعمال کیا اور گلیوں میں مردوں اور خواتین کا تعاقب کرتے ہوئے ان کے پُرامن اجتماعات کو طاقت کے ذریعہ کچل دیا، جس کے نتیجے میں متعدد غیر مسلح شہری زخمی ہو گئے۔

کابل سے شائع ہونے والے اخبار "8 صبح”  کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز اور جائے وقوعہ سے موصول ہونے والی تصاویر میں خوفناک مناظر دکھائی دیتے ہیں، جن میں شہریوں کو گولیوں کی بوچھاڑ کے درمیان بھاگتے ہوئے، مسلسل فائرنگ کی آوازیں، لوگوں کی چیخ و پکار اور زخمیوں کو خون آلود حالت میں اٹھا کر لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اگرچہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی درست تعداد ابھی سامنے نہیں آ سکی، تاہم علاقے میں طالبان کی فوجی گاڑیوں کی گشت، ایمبولینسوں کے مسلسل سائرن اور کشیدہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہرات میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے اور صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button