اسلامی دنیاخبریںشیعہ مرجعیت

آیۃ اللہ العظمیٰ محمد اسحاق فیاض رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت؛ عراق میں تین روزہ سوگ، کاظمین و کربلا میں لاکھوں افراد کی شرکت سے تشییع، نجف اشرف میں تدفین

آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ محمد اسحاق فیاضؒ، جو عالمِ تشیع کے ممتاز مراجعِ تقلید اور حوزۂ علمیہ نجف اشرف کے اہم ستونوں میں شمار ہوتے تھے، کی رحلت پر عراق، عالمِ اسلام اور بین الاقوامی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔

اس عظیم سانحے کے بعد عراق میں تین روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا گیا، جبکہ کاظمین، کربلا اور نجف اشرف میں آپ کی تشییع و تدفین کی تقریبات میں لاکھوں عقیدت مندوں، علماء اور طلاب نے شرکت کی۔

آیت اللہ العظمیٰ محمد اسحاق فیاض رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت نے عراق، افغانستان، ایران اور دیگر اسلامی ممالک میں سوگ کی فضا قائم کر دی۔

آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ محمد اسحاق فیاضؒ، جو عالمِ تشیع کے ممتاز مراجعِ تقلید اور حوزۂ علمیہ نجف اشرف کے اہم ستونوں میں شمار ہوتے تھے، کی رحلت پر عراق، عالمِ اسلام اور بین الاقوامی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔

اس عظیم سانحے کے بعد عراق میں تین روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا گیا، جبکہ کاظمین، کربلا اور نجف اشرف میں آپ کی تشییع و تدفین کی تقریبات میں لاکھوں عقیدت مندوں، علماء اور طلاب نے شرکت کی۔

آیت اللہ العظمیٰ محمد اسحاق فیاض رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت نے عراق، افغانستان، ایران اور دیگر اسلامی ممالک میں سوگ کی فضا قائم کر دی۔

آپ نے کئی دہائیوں تک نجف اشرف میں علمی، فقہی اور تربیتی خدمات انجام دیں اور اپنے پیچھے علم و تقویٰ کی ایک درخشاں میراث چھوڑ گئے۔

آپ کی رحلت پر مراجعِ عظام، سیاسی شخصیات، دینی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری رہا۔

امام حسین علیہ السلام میڈیا نیٹ ورک نے بھی اس عظیم سانحے پر حضرت امام عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف، مراجعِ عظام تقلید، حوزاتِ علمیہ، محبانِ اہلِ بیت علیہم السلام اور مرحوم کے مقلدین کی خدمت میں تعزیت پیش کی۔

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ آیۃ اللہ العظمیٰ فیاضؒ ان مراجع میں شامل تھے جنہوں نے امام حسین علیہ السلام میڈیا نیٹ ورک کو شرعی وجوہات کے استعمال کی اجازت مرحمت فرمائی تھی۔

فرات نیوز کے مطابق عراقی حکومت نے اس سانحۂ ارتحال پر ملک بھر میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا۔ اسی طرح عراق کے اہم سیاسی و مذہبی رہنماؤں، بین الاقوامی اداروں، مختلف ممالک کے حکام، گوناگوں ادیان و مذاہب کی شخصیات اور دنیا بھر کے اسلامی و شیعہ اداروں نے بھی مرحوم مرجعِ عالی قدر کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا۔

آیۃ اللہ العظمیٰ فیاضؒ کے جسدِ خاکی کی تشییع جمعہ کی صبح کاظمین مقدسہ میں شروع ہوئی۔ بغداد سے منتقلی کے بعد حسینیہ آل یاسین سے حرمِ مطہر امامین کاظمین علیہما السلام تک ایک عظیم الشان جلوسِ تشییع نکالا گیا۔

بعد ازاں اسی روز عصر کے وقت کربلا معلیٰ میں حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کے روضۂ مبارک سے حرمِ مطہر امام حسین علیہ السلام تک تشییع کا دوسرا مرحلہ انجام پایا۔

مرحوم مرجعِ عالی قدر کی تدفین ہفتہ کے روز نجف اشرف میں علماء، طلاب اور عوام الناس کی وسیع شرکت کے ساتھ انجام دی گئی۔

آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی اور آیۃ اللہ العظمیٰ بشیر نجفی نے اپنے تعزیتی پیغامات میں آیۃ اللہ العظمیٰ فیاضؒ کی رحلت کو عالمِ اسلام اور حوزۂ علمیہ نجف اشرف کے لئے ایک عظیم نقصان قرار دیا۔

افغانستان کی شیعہ علماء کونسل نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ آیۃ اللہ العظمیٰ فیاضؒ کی رحلت سے نجف اشرف کے قدیم علمی مرکز کا ایک اہم ستون اور عالمِ اسلام کا ایک عظیم علمی سرمایہ رخصت ہو گیا ہے۔

علاقائی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھی آیۃ اللہ العظمیٰ فیاضؒ کے انتقال کو حالیہ برسوں میں عالمِ تشیع کے سب سے بڑے علمی و مذہبی نقصانات میں شمار کرتے ہوئے طلبہ و علماء کی تربیت، اسلامی معارف کی اشاعت اور شیعہ معاشروں کے درمیان ثقافتی روابط کے فروغ میں ان کے نمایاں کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

آیۃ اللہ العظمیٰ محمد اسحاق فیاضؒ 1309 ہجری شمسی میں افغانستان کے صوبہ غزنی کے ضلع جاغوری میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی علوم حاصل کرنے کے بعد آپ عراق تشریف لے گئے اور حوزۂ علمیہ نجف اشرف میں آیت اللہ العظمیٰ سید ابوالقاسم خوئیؒ سمیت جلیل القدر اساتذہ سے کسبِ فیض کیا۔

آپ آیۃ اللہ العظمیٰ خوئیؒ کے ممتاز ترین شاگردوں میں شمار ہونے لگے اور کئی دہائیوں تک نجف اشرف میں درسِ خارجِ فقہ و اصول کی تدریس فرماتے رہے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ فیاض رحمۃ اللہ علیہ آیاتِ عظام سید علی سیستانی، محمد سعید حکیمؒ اور بشیر نجفی کے ہمراہ نجف اشرف میں مرجعیتِ شیعہ کے اہم ترین ارکان میں شمار ہوتے تھے۔

آیت اللہ العظمیٰ فیاضؒ کی رحلت نے ایک بار پھر حوزاتِ علمیہ اور پیروانِ اہلِ بیت علیہم السلام کے درمیان آپ کے بلند علمی، دینی اور روحانی مقام کو نمایاں کر دیا۔ آپ کی علمی خدمات، تدریسی میراث اور دینی رہنمائی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button