شیعہ مرجعیت

آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی: صلۂ رحمی مستحب اور قطعِ رحم حرام ہے

اگر رشتہ داروں سے تعلق نہ رکھنا قطعِ تعلقی اور ناراضگی کے مترادف ہو تو جائز نہیں، تاہم محض رابطہ نہ ہونا قطعِ رحم شمار نہیں ہوتا: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی

مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ کی روزانہ علمی نشست بروز پیر 15 ذی الحجہ 1447 ہجری کو منعقد ہوئی۔

اس نشست میں حسبِ سابق مختلف فقہی مسائل کے بارے میں حاضرین کے سوالات کے جوابات دیے گئے۔

آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے صلۂ رحمی کے حکم کے بارے میں فرمایا: صلۂ رحمی مستحب ہے جبکہ قطعِ رحم حرام ہے۔

معظم لہ نے مزید فرمایا: شریعتِ مقدسہ نے قطعِ رحم کو حرام قرار دیا ہے، لیکن اس کی مصداق کی تفصیل بیان نہیں کی۔ لہٰذا عرفِ عام میں جس عمل کو قطعِ رحم کہا جاتا ہو، وہی قطعِ رحم کا مصداق شمار ہوگا۔

آیت اللہ العظمیٰ شیرازی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر رشتہ داروں سے تعلق نہ رکھنا اس انداز کا ہو کہ عرف میں اسے ناراضگی، بائیکاٹ یا قطعِ تعلقی سمجھا جائے تو ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہ صرف رابطہ یا آمد و رفت نہ ہونا، بذاتِ خود قطعِ رحم شمار نہیں ہوتا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button