والدین کی روزمرہ عادتوں کے بچوں کے جسمانی اور ذہنی مستقبل پر اثرات سے متعلق محققین کا انتباہ

برازیل میں ہونے والی ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ والدین کی روزمرہ عادتیں، خصوصاً کم جسمانی سرگرمی اور زیادہ دیر تک بیٹھے رہنے کا انداز، بچوں کی آئندہ زندگی اور صحت پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے اور یہ آنے والی نسل میں جسمانی و ذہنی مسائل کے بڑھنے کا سبب بن سکتا ہے۔
آئیے ہمارے ساتھی رپورٹر کی اس رپورٹ کو دیکھتے ہیں جس میں اس موضوع کا جائزہ لیا گیا ہے:
صحت کے ماہرین گزشتہ چند برسوں سے بچوں میں بڑھتی ہوئی سستی اور جسمانی بے عملی کے بارے میں مسلسل خبردار کرتے رہے ہیں۔
اب ایک نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ اس بحران کی ایک اہم وجہ والدین کی روزمرہ عادتیں اور گھریلو ماحول ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے نصیحتوں سے زیادہ اپنے والدین کے عملی رویّوں سے اثر لیتے ہیں اور انہی کو اپنا نمونہ بناتے ہیں۔
یورونیوز کی رپورٹ کے مطابق، برازیل کی ریاستی جامعہ ساؤ پاؤلو کی جانب سے تو 182 خاندانوں پر کی گئی تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ بچے والدین کے ورزش کرنے سے زیادہ ان کی بے عملی اور سستی سے متاثر ہوتے ہیں۔
محققین نے زور دیا ہے کہ طویل وقت تک بیٹھے رہنا، مسلسل موبائل فون استعمال کرنا، زیادہ ٹی وی دیکھنا اور گھر کے ماحول میں کم حرکت کرنا، براہِ راست بچوں کے رویّوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق، جن بچوں کے والدین زیادہ وقت غیر متحرک حالت میں گزارتے ہیں، ان میں موٹاپے، جسمانی کمزوری اور حرکتی سرگرمیوں میں کمی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو مستقبل میں نئی نسل میں موٹاپا، ذیابیطس، دل کی بیماریاں اور یہاں تک کہ ذہنی و نفسیاتی مسائل بھی بڑھ سکتے ہیں۔
تعلیمی اور تربیتی ماہرین کا بھی ماننا ہے کہ صحت مند عادتوں کی تشکیل میں خاندان بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ان کے مطابق جو بچے ایک فعال اور متحرک خاندانی ماحول میں پرورش پاتے ہیں، وہ ورزش، روزمرہ جسمانی سرگرمیوں اور سماجی کاموں کی طرف زیادہ مائل ہوتے ہیں۔
محققین نے سفارش کی ہے کہ والدین موبائل فون اور ٹی وی کے استعمال کا وقت کم کریں اور چہل قدمی، اجتماعی کھیلوں اور خاندانی ورزش جیسی سرگرمیوں کو اپنے روزانہ کے معمولات میں شامل کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ خاندانی طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلی بچوں کے جسمانی اور ذہنی مستقبل کی صحت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
اسلامی تعلیمات میں بھی بچوں کی جسمانی اور روحانی صحت کو والدین کی اہم ذمہ داری قرار دیا گیا ہے۔ قرآنِ کریم انسان کو اعتدال، حرکت و نشاط، فضول روی سے دوری اور صحت کی نعمت کی حفاظت کی دعوت دیتا ہے، جبکہ مختلف آیات میں صحیح خاندانی تربیت کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔
اسی طرح اہلِ بیت علیہم السلام کی روایات میں بھی نشاط، جسمانی سرگرمی، مفید مہارتوں کی تعلیم اور بچوں کی جسمانی توانائی بڑھانے پر توجہ دی گئی ہے۔ امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ انسان کا دل اور جسم سستی اور بے عملی کی وجہ سے کمزور اور فرسودہ ہو جاتا ہے، جبکہ دیگر روایات میں بچوں کو تیراکی، ورزش اور مفید سرگرمیوں کی تعلیم دینے کی تاکید کی گئی ہے۔
دینی ماہرین کے مطابق ایسا خاندان جہاں خوشی، نظم، جسمانی سرگرمی اور صحت مند طرزِ زندگی رائج ہو، وہاں بچوں کی جسمانی، روحانی اور اخلاقی نشوونما بہتر انداز میں ہوتی ہے۔




