بوسنی جنگ میں مسلمان شہریوں کے قتل کے مقدمے میں سابق بوسنیائی صرب فوجی کو 15 سال قید کی سزا
بوسنی جنگ میں مسلمان شہریوں کے قتل کے مقدمے میں سابق بوسنیائی صرب فوجی کو 15 سال قید کی سزا
بوسنیا و ہرزیگووینا کی عدالت نے 1990 کی دہائی کی جنگ سے متعلق مقدمات کی سماعت کے سلسلے میں ایک سابق فوجی کو شہریوں کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں سزا سنائی ہے۔
یہ مقدمہ اُن اہم جنگی جرائم میں شمار ہوتا ہے جن کی عدالتی کارروائیاں اب بھی اس ملک میں جاری ہیں۔
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق، بوسنیا کی سرکاری عدالت نے بوسنیائی صرب کے سابق فوجی دوسکو زوریک کو 1992 سے 1995 کے دوران ہونے والی جنگ میں پانچ مسلمان غیر فوجی شہریوں کے قتل کے جرم میں پندرہ سال قید کی سزا سنائی ہے۔
ملزم کی عمر واقعہ کے وقت تقریباً 21 سال تھی، اور گزشتہ سال جرمنی سے حوالگی کے بعد اس پر مقدمہ چلایا گیا۔
عدالتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ متاثرین کو ان کے گھروں سے گرفتار کرنے کے بعد سڑک کنارے لے جا کر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔
رپورٹ میں اسی دور اور اطراف کے علاقوں میں ہونے والے مزید وسیع جنگی جرائم کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ بوسنیا جنگ سے متعلق مقدمات کی جاری عدالتی کارروائیوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے، جبکہ اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے قتل عام میں ملوث دیگر افراد کو طویل المدت سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔




