امریکی کمیشن میں ہندوستان پر اقلیتوں کے خلاف امتیاز کا الزام، پابندیوں کا مطالبہ
امریکی کمیشن میں ہندوستان پر اقلیتوں کے خلاف امتیاز کا الزام، پابندیوں کا مطالبہ
امریکہ میں انسانی حقوق کے کارکن راقب حمید نائیک نے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) کے سامنے گواہی دیتے ہوئے ہندوستان میں مسلمانوں، عیسائیوں اور پسماندہ طبقات کے خلاف بڑھتے ہوئے مبینہ ظلم، نفرت انگیز تقاریر، جبری بے دخلیوں اور املاک کی مسماری پر شدید تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی، یوگی آدتیہ ناتھ اور ہیمنت بسوا شرما سمیت بعض رہنماؤں اور ہندو قوم پرست تنظیموں کے خلاف عالمی میگنیٹسکی پابندیوں کا مطالبہ کیا۔
نائیک نے دعویٰ کیا کہ آسام میں 2021ء سے 2026ء کے درمیان ہزاروں مکانات مسمار کیے گئے اور لاکھوں افراد متاثر ہوئے، جبکہ 2025ء میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے واقعات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے شہریت ترمیمی قانون (CAA)، NRC اور دیگر حکومتی اقدامات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ گواہی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نفرت انگیز مواد کے پھیلاؤ اور عیسائیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے حملوں کا بھی ذکر کیا گیا، جبکہ امریکی حکومت سے ہندوستان کو “خاص تشویش والے ملک” (CPC) کے طور پر نامزد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔




