عشرۂ شہادتِ امام تقی علیہ السلام؛ واقفیہ کے فتنہ کے مقابلے میں امام محمد تقی علیہ السلام کے تاریخی کردار

21 سے 30 ذی القعدہ تک حضرت امام محمد تقی امام جواد علیہ السلام کی شہادت کی یاد میں منائے جانے والے عشرۂ عزاء کے موقع پر، عقائدی انحرافات کے مقابلے اور سلسلۂ امامت کے استحکام میں امام محمد تقی علیہ السلام کے علمی و تاریخی کردار پر دینی اور علمی حلقوں میں خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
ہمارے ساتھی رپورٹر نے اپنی رپورٹ میں اس موضوع کا تفصیلی جائزہ لیا ہے، آئیے مل کر دیکھتے ہیں:
ماہِ ذی القعدہ کے آخری 10 دن اہلِ بیت علیہم السلام کے محبین کے نزدیک حضرت امام جواد علیہ السلام کی شہادت کی یاد میں منائے جانے والے عشرۂ عزاء کے طور پر معروف ہیں۔
یہ مناسبت نویں امامِ معصوم کی علمی، ثقافتی اور اعتقادی سیرت کو دوبارہ سمجھنے اور بیان کرنے کا اہم موقع فراہم کرتی ہے۔ خصوصاً حضرت امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے بعد کے نازک دور میں امام جواد علیہ السلام کی بے مثال شخصیت نے شیعوں کے فکری اتحاد اور استحکام کے تحفظ میں نہایت فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی نے ایک علمی نشست میں امام علی رضا علیہ السلام کی وہ مشہور روایت بیان فرمائی جس میں ولادتِ امام محمد تقی جواد علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہوا: “یہ ایسا مولود ہے کہ ہماری شیعوں کے لئے اس سے زیادہ بابرکت کوئی مولود پیدا نہیں ہوا۔”
معظم لہٗ نے اس روایت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض اکابر علماء، جیسے علامہ مجلسی، اس روایت کا مفہوم یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت امام محمد تقی جواد علیہ السلام نے فتنۂ واقفیہ کے خاتمے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
انہوں نے مزید فرمایا کہ اگرچہ ائمہ علیہم السلام کے ادوار میں مختلف قسم کے اختلافات موجود رہے، لیکن سب سے شدید اور خطرناک اختلاف “واقفیہ” کا فتنہ تھا جو امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی شہادت کے بعد پیدا ہوا۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے واقفیہ کے بعض سرکردہ افراد کے فریبی طریقوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض شیعہ یہ باور کرنے لگے تھے کہ حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی وفات نہیں ہوئی، اسی بنا پر انہوں نے حضرت امام رضا علیہ السلام کی امامت کو قبول نہیں کیا۔
معظم لہٗ نے مزید تاکید فرمائی کہ علی بن ابی حمزہ بطائنی اور زیاد بن مروان قندی جیسے معروف افراد کے اس گروہ میں شامل ہونے سے بہت سے لوگ گمراہی کا شکار ہوئے۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے اس فتنہ کے مقابلے میں امام محمد تقی جواد علیہ السلام کی کامیابی کے بارے میں فرمایا کہ حضرت امام محمد تقی جواد علیہ السلام نے کم سنی کے باوجود واقفیہ کے فتنہ کو شکست دی اور اس بڑے انحراف کو مکتبِ تشیع کے راستے سے ہٹا دیا۔
معظم لہ نے سات یا آٹھ سال کی عمر میں امام جواد علیہ السلام کی امامت کو شیعوں کے لئے ایک سخت امتحان قرار دیا اور فرمایا کہ جس طرح واقعۂ غدیر کے بعد بعض لوگ انحراف کا شکار ہوئے، اسی طرح اس دور میں بھی دنیا طلبی یا نادانی کی وجہ سے بعض افراد گمراہ ہو گئے۔
انہوں نے واقفیہ کی بعض سازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ گروہ مختلف حیلوں اور فریبوں کے ذریعہ لوگوں کو حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے زندہ ہونے کا یقین دلانے کی کوشش کرتا تھا، لیکن بعد میں ان کے بہت سے پیروکار حقیقت کو سمجھ کر راہِ حق کی طرف واپس آ گئے۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں بعض معصومین علیہم السلام کی نامناسب ازواج کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ امور تقدیرِ الٰہی اور امت کے امتحان کا ایک حصہ تھے۔



