
مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال کے تناظر میں تقریباً 15 ہزار پاکستانی شیعہ افراد کو متحدہ عرب امارات سے بے دخل کر دیا گیا اور ان کے مالی اثاثے بھی منجمد کر دیے گئے۔
ان افراد کو اپنی جمع پونجی تک رسائی کے بغیر پاکستان واپس بھیجا گیا، جس سے ان کے معاشی حالات پر شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
نیٹ ورک "فرانس 24” کے مطابق یہ اقدام ابو ظہبی اور اسلام آباد کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جس پر میڈیا حلقوں میں تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔



