
متحدہ عرب امارات نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ اس نے تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپک) اور اوپکپلاس اتحاد سے علاحدگی اختیار کر لی ہے۔
یہ اقدام یکمِ مئی دو ہزار چھبیس سے نافذ ہو رہا ہے اور عالمی توانائی منڈیوں میں اس کی وسیع پیمانے پر گونج سنائی دے رہی ہے۔
یورونیوز کی رپورٹ کے مطابق، اماراتی حکام نے اس فیصلے کی وجہ ”توانائی کی حکمتِ عملی میں تبدیلی اور ملکی توانائی کے شعبے کی ترقی” بتائی ہے، اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ قدم وسیع تر اقتصادی پالیسی سازی کے دائرے میں، تولید اور توانائی سرمایہکاری کے انتظام میں لچک بڑھانے کی غرض سے اٹھایا گیا ہے۔
اسی سلسلے میں اماراتی وزیرِ توانائی سہیل المزروعی نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ یہ فیصلہ کوئی سیاسی اقدام نہیں، نہ ہی اس کا جیو سیاسی تبدیلیوں سے کوئی تعلق ہے، بلکہ یہ محض توانائی کی پالیسیوں کی نئی ترتیب کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس علاحدگی کا وقت تیل کی منڈی کے حالات اور برآمدات میں موجود پابندیوں کو سامنے رکھتے ہوئے چنا گیا ہے، تاکہ عالمی قیمتوں پر اس کا اثر کم سے کم ہو۔
تاہم توانائی کے تجزیہنگاروں کا خیال ہے کہ یہ پیشرفت نفتی تعاون کے ڈھانچے اور عالمی منڈی میں رسد کے توازن پر دور رس نتائج مرتب کرے گی۔




