
ایسے حالات میں جب جنوبی لبنان ابھی تک پراگندہ کشیدگیوں اور نازک جنگ بندی کے درمیان جھول رہا ہے، اسرائیل کی جانب سے ”زرد لکیر” کے نام سے ایک نئے نقشے کا اجراء ایک بار پھر حفاظتی حصاروں کے قیام اور جنوبی سرحدوں کی صورتِ حال میں تبدیلی کے موضوع کو سیاسی و سلامتی مباحث کے مرکز میں لے آیا ہے۔
ہمارے ساتھی کی رپورٹ پر توجہ کریں:۔۔
گزشتہ چند روز سے جنوبی لبنان میں اسرائیل کے ایک نئے منصوبے کی وسیع پیمانے پر بازگشت سنائی دے رہی ہے، جسے ”زرد لکیر” کا نام دیا گیا ہے۔
اس منصوبے کی رُو سے لبنان کی جنوبی سرحدوں کے بعض حصوں میں مخصوص علاقوں کو حفاظتی پٹی کے طور پر متعین کیا جائے گا۔ یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب یہ خطّہ ابھی گزشتہ کشیدگیوں کے اثرات سے باہر نہیں نکل سکا اور میدانی صورتِ حال عدم استحکام کی کیفیت میں ہے۔
مِڈل ایسٹ نیوز کی رپورٹ کے مطابق، اس منصوبے کو اسرائیل کی شمالی سرحدوں پر حفاظتی ڈھانچے کی ازسرِ نو تعریف کی ایک کوشش کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ماضی میں بھی اس نوعیت کے منصوبے حفاظتی لکیریں قائم کرنے کی غرض سے عمل میں لائے یا تجویز کیے گئے تھے، تاہم وہ میدان میں کوئی پائیدار اور مستحکم صورتِ حال پیدا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔
علاقائی امور کے تجزیہ کاروں کی اس پہل کے بارے میں آراء مختلف ہیں۔ بعض اسے سرحدی علاقوں میں حفاظتی خطرات کے انتظام اور ایک قابلِ ضبط فاصلہ قائم کرنے کی کوشش قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض دیگر کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان کے پیچیدہ حالات میں ایسے منصوبوں پر عمل درآمد سنگین چیلنجوں سے دوچار ہو سکتا ہے اور میدانی حساسیتوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
اس پسِ منظر میں فریقین کے درمیان کسی واضح اتفاق کی غیر موجودگی اور اس خطّے میں بار بار کشیدگی کی تاریخ نے یہ صورتِ حال پیدا کر دی ہے کہ سرحدی لکیروں میں ہر ردّوبدل یا نئی حفاظتی حدود کا تعین مختلف ردِّعمل کو جنم دیتا ہے۔ ذرائع ابلاغ نے اپنے تجزیوں میں لکھا ہے کہ ایسے منصوبے عملاً زیادہ مستحکم سیاسی اور سلامتی حالات کے متقاضی ہوتے ہیں تاکہ وہ دیرپا اثر چھوڑ سکیں۔
اسی طرح بعض علاقائی مبصرین کا اصرار ہے کہ ماضی کے تجربات یہ ثابت کر چکے ہیں کہ کسی اتفاقی بنیاد کے بغیر یک طرفہ طور پر حفاظتی لکیریں کھینچنا نہ صرف کشیدگی میں کمی کا باعث نہیں بنا، بلکہ کئی مواقع پر میدانی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنانے کا زمینہ فراہم کرتا رہا ہے۔
اس صورتِ حال کے جاری رہنے کے ساتھ جنوبی لبنان ابھی تک ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے؛ یہ وہ مقام ہے جہاں ہر نئی حفاظتی پہل بہت جلد علاقائی سطح پر ایک متنازعہ موضوع بن جاتی ہے اور آئندہ کے حالات و تغیرات پر اپنے اثرات مرتّب کرتی ہے۔




