لبنان، غزہ اور مغربی کنارے میں مقدس مقامات کی بے حرمتی کی نئی لہر بے نقاب
لبنان، غزہ اور مغربی کنارے میں مقدس مقامات کی بے حرمتی کی نئی لہر بے نقاب
جنوبی لبنان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمہ کی توڑ پھوڑ کی تصاویر سامنے آنے کے بعد خطے اور دنیا بھر میں شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا ہے۔
سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلنے والی ان تصاویر میں دبِل کے علاقے میں ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے مذہبی علامت کو نقصان پہنچانے کا منظر دکھایا گیا، جس پر مقامی افراد اور لبنان کی مسیحی برادری نے سخت احتجاج کیا۔
مڈل ایسٹ آئی کے مطابق، اس واقعہ نے عالمی سطح پر عوامی ردِعمل کو جنم دیا اور بہت سے لوگوں نے اسے مذہبی مقدسات کی توہین قرار دیا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اپنی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے اس عمل کو اپنے دعووں کے برخلاف قرار دیا ہے۔
اسی تناظر میں اخبار "نیو عرب” نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ واقعہ ایک وسیع تر سلسلے کا حصہ ہے، جس کے تحت جنوبی لبنان، غزہ اور مغربی کنارے میں مختلف مذہبی مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ جھڑپوں کے دوران گرجا گھروں، مساجد اور مزارات کو نقصان پہنچانے کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں، جس سے نہ صرف مذہبی ورثہ خطرے میں پڑ گیا ہے بلکہ خطے میں بین المذاہب ہم آہنگی اور بقائے باہمی پر بھی سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔




