اسلام میں علم و دانش

از تبرکات مرجع راحل آیۃ اللہ العظمی سید محمد حسینی شیرازی رحمۃ اللّٰہ علیہ
اسلام نے علم و دانش کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ہر مسلمان مرد و عورت کے لئے اسے لازمی قرار دیا ہے۔
اسلام صرف دینی علوم تک محدود نہیں بلکہ ہر شعبے کا علم حاصل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ علماء نے مختلف پیشوں اور ہنروں کو بھی سیکھنا ضروری (واجب کفائی کے تحت) قرار دیا ہے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا: "علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر واجب ہے۔” یہاں لفظ علم بغیر کسی حد یا متعلق کے استعمال ہوا، جس کا مطلب ہر قسم کے علم کو شامل کرنا ہے۔
یوں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے مطلق فرمایا کہ علم حاصل کرنا واجب ہے، نہ کہ صرف دین یا قرآن یا ریاضی کا علم۔
یہ بات امیرالمومنین علی علیہ السلام کے قول سے بھی ظاہر ہوتی ہے: "ہر انسان کی قدر اس بات سے ہے جو وہ جانتا ہے۔” اور قرآن حکیم فرماتا ہے:
﴿هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ﴾
"کیا وہ لوگ جو علم رکھتے ہیں اور جو نہیں جانتے، برابر ہیں؟”
یعنی وہ جو قرآن جانتا ہے اور جو نہیں جانتا، یا جو طبی علم رکھتا ہے اور جو اس سے محروم ہے، برابر نہیں۔ اسی طرح ریاضی، فلکیات، تاریخ، سیاست اور دیگر علوم میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔
(یہ بیان مرحوم آیۃ اللہ العظمی سید محمد شیرازی رحمۃ اللہ علیہ اور بغداد یونیورسٹی کے ایک امریکی استاد کی گفتگو سے ماخوذ ہے۔
کتاب کیف و لماذا اسلموا؟ (چرا و چگونه مسلمان شدند؟)، ص 10




