
ترکیہ کے سیاحتی شہروں، خصوصاً وان، استنبول اور انطالیہ کی جانب ایرانی سیاحوں کے سفر میں نمایاں کمی کے نتیجے میں اس ملک کی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔
اس حوالے سے ہمارے نمائندے کی رپورٹ ملاحظہ کریں:
شہر وان، جس کی معیشت کا بڑا حصہ ایرانی سیاحوں پر منحصر ہے، سفر کی بندش اور سرحدی سرگرمیوں میں نمایاں کمی کے باعث شدید بحران کا شکار ہے۔ مقامی حکام کے مطابق، وان کی تقریباً 80 فیصد آمدنی ایرانی سیاحوں سے حاصل ہوتی تھی، جو اب اس شہر کی ایک بڑی کمزوری بن چکی ہے۔ اندازوں کے مطابق صرف اسی شہر میں ایرانی سیاحوں کی کمی سے تقریباً 400 ملین ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔
یہ اثرات صرف وان تک محدود نہیں رہے بلکہ ترکیہ کے دیگر مشہور سیاحتی شہر، جیسے استنبول اور انطالیہ، بھی ایرانی سیاحوں کی کمی سے متاثر ہوئے ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، شاپنگ سینٹرز اور بازاروں سمیت مختلف کاروباری شعبے شدید مالی دباؤ اور معاشی سست روی کا سامنا کر رہے ہیں۔
مزید برآں، ایرانی سیاحوں کی کمی ترکیہ کے سیاحتی شعبے میں سرمایہ کاری کے منصوبوں پر بھی طویل مدتی منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایرانی سیاحوں کی واپسی نہ ہوئی تو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کئی کاروبار بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع بھی نمایاں طور پر کم ہو جائیں گے۔
ترک میڈیا کے مطابق حکومت اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کاروباری طبقے کو امدادی پیکجز فراہم کرنے اور سیاحوں کو دوبارہ متوجہ کرنے کے لیے تشہیری مہمات پر کام کر رہی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کی کامیابی کا انحصار ایرانی سیاحوں کی تیز اور خاطر خواہ واپسی پر ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، ایرانی سیاحوں میں کمی کے باعث ترکیہ کی معیشت کو مجموعی طور پر ایک ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اس صورتحال کے اثرات صرف سیاحتی شعبے تک محدود نہیں بلکہ اس سے منسلک اشیاء و خدمات کی سپلائی چین بھی متاثر ہو رہی ہے۔ بہت سے دکان دار اور خدماتی مراکز، جو عید سے قبل کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کے منتظر تھے، اب کساد بازاری اور گاہکوں کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔




