مصر

مصر میں پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے والدینِ گرامی کے بارے میں توہین آمیز ویڈیو کی اشاعت کے بعد وسیع دینی اور عدالتی ردِعمل

پیغمبرِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ کے والدینِ گرامی کے بارے میں توہین آمیز بیانات پر مشتمل ایک ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد مصر میں دینی، سماجی اور عدالتی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا۔

اس ردِعمل نے الازہر کے رسمی مؤقف اور ایک مذہبی جماعت کی جانب سے قانونی کارروائی کے ذریعہ ایک نیا رخ اختیار کر لیا۔

اس سلسلہ میں ہمارے ساتھی رپورٹر کی رپورٹ پر توجہ دیں۔

حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں محمد حسن عبدالغفار نے پیغمبرِ خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ کے والدین کے بارے میں توہین آمیز کلمات ادا کئے تھے۔

یہ ویڈیو تیزی سے سوشل میڈیا پر پھیل گئی اور مصر کے دینی حلقوں اور عوامی سطح پر شدید تنقید کا باعث بنی۔ بہت سے صارفین نے اسے دینی اور اخلاقی سرخ لکیروں کو عبور کرنے کے مترادف قرار دیا۔

محمد حسن عبدالغفار ایک مصری واعظ اور مذہبی خطیب ہیں جو اپنے سخت مؤقف اور متنازع بیانات کی وجہ سے ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر جانے جاتے ہیں۔

گزشتہ برسوں کے دوران انہوں نے انٹرنیٹ پر اپنی تقاریر اور ویڈیوز کے ذریعہ شہرت حاصل کی۔

تاہم ان کے مؤقف پر متعدد بار دینی حلقوں اور عوام کی جانب سے اعتراضات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

حالیہ ویڈیو کے بعد ان کا نام دوبارہ خبروں کا مرکز بن گیا۔ ان کے بیانات پر علماء، دینی اداروں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا، حتیٰ کہ مصر میں ان کے خلاف باقاعدہ قانونی شکایت بھی دائر کر دی گئی۔

مذہبی رجحان کے اعتبار سے وہ سلفی مکتبِ فکر سے وابستہ سمجھے جاتے ہیں۔

اپنی تقاریر اور میڈیا بیانات میں وہ عموماً سلفی اور وہابی فکر سے قریب تر آراء پیش کرتے رہے ہیں، جس کے باعث ماضی میں بھی انہیں سرکاری دینی اداروں اور علماء کی تنقید کا سامنا رہا ہے۔

الازہر اور مصر کے متعدد روایتی دینی حلقوں نے ان کے افکار کو اعتدال پسند دینی منہج سے خارج قرار دیا ہے۔

اس واقعہ کے بعد الازہر کے مرکزِ فتویٰ نے ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ اہلِ سنت کے معتمد مؤقف کے مطابق پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے والدین نجات یافتہ ہیں اور اس موضوع پر کسی بھی قسم کی توہین آمیز گفتگو نہ صرف غلط بلکہ اسلامی دینی و اخلاقی اصولوں کے منافی ہے۔

یہ بیان مصری اور عرب ذرائع ابلاغ میں وسیع پیمانے پر نشر ہوا اور اسے مذکورہ ویڈیو کے واضح جواب کے طور پر دیکھا گیا۔

ادھر معاملہ قانونی سطح تک بھی پہنچ گیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر پر ایک صارف عمر النسفی نے اعلان کیا کہ مصر کی ایک معروف مذہبی جماعت نے ملک کی پراسیکیوشن کے سامنے باضابطہ شکایت درج کرا دی ہے۔

اس اقدام کا مقصد متنازع بیانات کے خلاف قانونی کارروائی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام بتایا گیا ہے۔

مذکورہ مذہبی جماعت نے اپنے بیان میں کہا کہ مقدسات کی توہین نہ صرف دینی جذبات کو مجروح کرتی ہے بلکہ سماجی کشیدگی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق عرب میڈیا میں اس خبر کی بازگشت اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ مصری معاشرہ دینی حرمتوں کے تحفظ اور تفرقہ انگیز بیانات کے سدِباب کے حوالے سے انتہائی حساس ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button