امیر ممالک ماحولیاتی اقدامات میں پیچھے ہٹ رہے ہیں، سی او پی 30 کے صدر کا انتباہ
امیر ممالک ماحولیاتی اقدامات میں پیچھے ہٹ رہے ہیں، سی او پی 30 کے صدر کا انتباہ
چین کی پیش رفت کو سراہنے کی ضرورت، شکایت نہیں — آندرے کوریا دو لاگو
برازیل کے سینئر سفارتکار اور آئندہ COP30 ماحولیاتی کانفرنس کے صدر آندرے کوریا دو لاگو نے کہا ہے کہ امیر ممالک ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کی رفتار کھو رہے ہیں، جبکہ چین تیزی سے صاف توانائی کی پیداوار اور استعمال میں آگے بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے دی گارڈین سے گفتگو میں کہا کہ مالدار ممالک کو چین کی پیش رفت سے سیکھنا چاہیے، نہ کہ مسابقت کی شکایت کرنی چاہیے۔
بیلیم (Belém) — جو ایمیزون کے علاقے میں واقع ہے اور دو ہفتے کی کانفرنس کی میزبانی کرے گا — میں بات کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ شمالی ممالک میں ماحولیاتی اقدامات کا جذبہ کم ہو رہا ہے جبکہ عالمی جنوب کے ممالک فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
چین، جو دنیا کا سب سے بڑا گرین ہاؤس گیس اخراج کرنے والا ملک ہے، قابلِ تجدید توانائی کی ٹیکنالوجی میں دنیا کی قیادت کر رہا ہے۔
دو لاگو نے کہا کہ چین نے شمسی توانائی کو سستا اور قابلِ رسائی بنا کر ماحولیاتی تحفظ میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔
کانفرنس COP30 میں 194 ممالک کے نمائندے شرکت کریں گے تاکہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود رکھنے، فوسل ایندھن کے خاتمے اور غریب ممالک کے لیے مالی معاونت کے منصوبے تیار کیے جا سکیں۔
چھوٹے جزیرہ ممالک کا اتحاد (AOSIS) زیادہ سخت اخراج میں کمی کے وعدے کا مطالبہ کر رہا ہے، اور خبردار کیا ہے کہ اب تک کی پیش رفت ناکافی ہے۔
ادھر سیٹلائٹ کمپنی Kayrros کے اعداد و شمار کے مطابق، 2021 کی گلوبل میتھین پلیج پر دستخط کرنے والے بڑے ممالک — جن میں امریکہ، عراق، اور آسٹریلیا شامل ہیں — میں میتھین کے اخراج میں 2020 کے بعد سے 8.5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ صرف رضاکارانہ وعدے کافی نہیں، بلکہ میتھین کے اخراج پر عالمی سطح پر پابند معاہدے کی ضرورت ہے، کیونکہ میتھین گیس کاربن ڈائی آکسائیڈ سے کئی گنا زیادہ نقصان دہ ہے۔




