افغان خواتین کی عوامی عدالت کا آغاز میڈرڈ میں؛ طالبان کے جرائم کی دستاویز سازی اور مجرموں کی بے سزا رہنے کی روایت ختم کرنے کی کوشش
افغانستان میں طالبان کے دورِ حکومت میں خواتین کے حقوق کی پامالی سے متعلق پہلی عوامی عدالت، انسانی حقوق کے کارکنوں اور متاثرہ خواتین کی شرکت کے ساتھ اسپین کے شہر میڈرڈ میں شروع ہوئی، تاکہ خواتین کے خلاف تشدد اور امتیاز کی کہانیاں ریکارڈ اور دستاویزی شکل میں محفوظ کی جا سکیں۔
اس سلسلہ میں ہمارے ساتھی رپورٹر کی رپورٹ پر توجہ دیں۔
افغان خواتین کی صورتحال پر یہ پہلی عوامی عدالت بدھ، 8 اکتوبر کو اسپین کے شہر میڈرڈ میں کاروائی کا آغاز کر چکی ہے۔
فرانسیسی ریڈیو کی فارسی سروس کے مطابق، یہ عدالت 3 دن تک جاری رہے گی اور اس کا مقصد طالبان کے دور میں افغان خواتین اور بچیوں کے خلاف کئے گئے جرائم کی دستاویز سازی ہے۔
افغانستان کی چار شہری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں — افغان ہیومن رائٹس اینڈ ڈیموکریسی آرگنائزیشن، رواداری انسٹیٹیوٹ، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ انسٹیٹیوٹ، اور ہیومن رائٹس ڈیفینڈرز فورم — اس اجلاس کے انعقاد کی ذمہ دار ہیں۔
ان تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ یہ عوامی عدالت انصاف کے مطالبے اور افغانستان میں مجرموں کو سزا سے بچنے کی ثقافت کے خاتمے کے لئے ایک تاریخی قدم ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، اس عدالت کے دوران مختلف ممالک سے افغان خواتین اور بچیاں جمع ہوئی ہیں تاکہ طالبان کے منظم تشدد، امتیاز اور دباؤ سے متعلق اپنی ذاتی گواہیاں پیش کر سکیں۔
منتظمین نے زور دیا کہ ان گواہیوں کا جمع ہونا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بین الاقوامی مقدمات کے قیام کی بنیاد بن سکتا ہے۔
عدالت کے افتتاحی خطاب میں "رواداری” تنظیم کے سربراہ نے عالمی برادری کے طالبان کے حوالے سے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کئی ممالک نے "ثقافتی اقدار” کے نام پر طالبان کے رویے کو معمول کا حصہ بنانے میں مدد دی ہے۔
منتظمین کے مطابق، اس عدالت میں استغاثہ کے ارکان، وکلا، انسانی حقوق کے کارکنان اور متاثرہ خواتین شریک ہیں تاکہ بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے ان جرائم کی باقاعدہ دستاویز بندی کی جا سکے۔
اس عدالت کا مقصد افغان خواتین کی آواز کو دنیا تک پہنچانا اور یہ یاد دہانی کروانا ہے کہ انصاف اگرچہ دیر سے ملے، لیکن بالآخر ضرور ملنا چاہیے۔




