بغداد نے شام میں داعش کی توسیع سے خبردار کیا؛ عراقی سرحدوں پر خطرے منڈلا رہے ہیں
بغداد نے شام میں داعش کی توسیع سے خبردار کیا؛ عراقی سرحدوں پر خطرے منڈلا رہے ہیں
مشرقی شام میں شدت پسند سنی گروہ داعش کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت کے ساتھ عراقی حکام نے عراقی سرزمین پر دہشت گردی کے خطرات کی تکرار پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ تحریکیں علاقائی سلامتی اور مزاحمتی قوتوں کے اتحاد کے لئے ایک نیا چیلنج ہیں
اس سلسلہ میں ہمارے ساتھی رپورٹر کی رپورٹ پر توجہ دیں۔
مشرقی شام خاص طور پر صوبہ دیر الزور میں انتہا پسند سنی دہشت گرد گروہ داعش کی سرگرمیوں میں شدت کے ساتھ بغداد میں دہشت گردی کے خطرے کی واپسی کے بارے میں خدشات اپنے عروج پر پہنچ گئے ہیں۔
عراقی رکن پارلیمنٹ مختار الموسوی نے بغداد الیوم نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے باخبر کیا کہ شدت پسند سنی گروپ داعش مشرقی شام کے 10 سے زائد علاقوں میں سرگرم ہو چکا ہے اور اس نے اپنی جارحانہ کاروائیوں کو وسعت دی ہے۔
مختار الموسوی نے وضاحت کی کہ شدت پسند سنی گروپ داعش نے شام میں سکیورٹی اور سیاسی خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خود کو دوبارہ منظم کیا ہے اور اب اسے مزید جدید ہتھیاروں اور آلات تک رسائی حاصل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس گروپ نے صرف ایک دن میں 3 بار دیر الزور میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے ٹینکروں کو نشانہ بنایا۔
ان پیشرفت کے جواب میں عراق حکومت نے شام کے ساتھ 4 ہزار کلومیٹر طویل سرحد پر حفاظتی اقدامات سخت کر دیے ہیں اور سیکیورٹی فورسز کو ہائی الرٹ پر رکھا ہے۔
عراقی پارلیمنٹ کے رکن نے فوجی دستوں کی تیاری کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اہم تشویش انتہا پسند سنی گروہ داعش کی شامی سرزمین سے عراق کی مغربی علاقوں میں بتدریج دخول ہے۔ وہ علاقے جو پہلے گروپ کے اثر و رسوخ کے مراکز رہے ہیں۔
انہوں نے امریکہ کی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کی کارکردگی پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے اور داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے میں مزید سنجیدہ کاروائی کا مطالبہ کیا ہے.
مختار المسوی نے بتایا: اتحاد کو اپنے فضائی حملوں میں اضافہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ انہوں نے ابھی تک داعش کے خطرے پر قابو پانے کے لئے ضروری تاثیر کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔
سیکورٹی تجزیہ کاروں نے المیادین اور الجزیرہ جیسے ذرائع سے شائع ہونے والی رپورٹس میں بھی باخبر کیا ہے کہ شام کے سرحدی علاقوں میں طاقت کے خلا نے داعش کو دوبارہ پنپنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ یہ مسئلہ عراق اور مزاحمت کے محور دونوں کے لئے ایک سنگین چیلنج ہے۔
اگرچہ دنیا داعش کے خطرے کو کسی حد تک بھول چکی ہے لیکن حالیہ پیشرفت سے پتہ چلتا ہے کہ یہ خطرہ نہ صرف ختم نہیں ہوا بلکہ ایک نئی شکل میں منظر عام پر آ رہا ہے۔
واضح رہے کہ عراقی پارلیمنٹ کے اس رکن کے بیانات کے علاوہ ماہرین کا خیال ہے کہ شام میں شدت پسندی گروہ داعش کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت عراق اور خطے کی سلامتی کے لئے ایک نئے خطرے کی گھنٹی ہے، فوری اور مضبوط کاروائی کے بغیر در اندازی اور عدم استحکام کا خطرہ پھر سے سنگین ہو جائے گا۔




