3 رمضان المبارک، یوم وفات شیخ مفید رحمۃ اللّٰہ علیہ

جناب محمد بن محمد بن نعمان المعروف بہ شیخ مفید رحمۃ اللہ علیہ 11 ؍ذی القعدہ 338 ہجری کو بغداد کے قریب عکبری نامی علاقہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد معلم تھے اس لئے آپ کو ابن معلم بھی کہا جاتا ہے۔
ابتدائی تعلیم وطن میں حاصل کرنے کے بعد بغداد تشریف لے گئے جہاں مختلف شیعہ اور سنی علماء سے کسب فیض کیا اور 20 برس سے کم عمر میں درجہ اجتہاد و استنباط پر فائز ہوئے، آپ کے اساتذہ میں محدث عالی مقام جناب شیخ صدوق رحمۃ اللہ علیہ سرفہرست ہیں۔ جناب شیخ مفید رحمۃ اللہ علیہ کے سلسلہ میں ملتا ہے کہ وہ کثرت سے نماز پڑھتے، صدقہ دیتے اور مطالعہ کرتے تھے۔ جیسا کہ آپ کے داماد اور جانشین جناب ابو یعلی جعفری رحمۃ اللہ علیہ نے بیان فرمایا کہ آپ راتوں میں کم سوتے تھے، نماز پڑھتے، قرآن کریم کی تلاوت کرتے، مطالعہ کرتے یا تدریس کرتے تھے۔
علامہ بحرالعلوم رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ ابن شہر آشوب رحمۃ اللّٰہ علیہ کے مطابق حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف نے آپ کو مفید کے لقب سے لوازا، لیکن دوسرے لوگوں کے مطابق یہ لقب ’’مفید‘‘ قاضی عبدالجبار معتزلی نے دیا تھا۔
اسی طرح ملتا ہے کہ شیخ مفید رحمۃ اللہ علیہ نے ایک شب خواب میں دیکھا آپ بغداد کی مسجد کرخ میں تشریف فرما ہیں کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اپنے دونوں بیٹوں امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے ہمراہ تشریف لائیں اور آپ سے فرمایا:’’ یا شیخ! علمھما الفقہ‘‘ (ائے شیخ ! ان دونوں کو فقہ کی تعلیم دیں ۔)
خواب سے بیدار ہوئے تو حیرت میں پڑ گئے کہ میں کون ہوتا ہوں دو معصوم اماموں کو تعلیم دوں ، دوسری جانب یہ بھی فکر لاحق ہوئی کہ معصوم کو خواب میں دیکھنا شیطانی خواب نہیں ہو سکتا ۔ صبح ہوئی تو شیخ نے جس مسجد کا خواب دیکھا اسی مسجد میں تشریف لے گئے ابھی تھوڑی دیر نہ گذری تھی کہ ایک جلیل القدر سیدہ خاتون کنیزوں کے جھرمٹ میں اپنے دو بیٹوں کو لے کر آئیں اور فرمایا:’’ یا شیخ! علمھما الفقہ‘‘ (ائے شیخ ! ان دونوں کو فقہ کی تعلیم دیں ۔) آپ کو خواب کی تعبیر مل گئی اور وہ دو بیٹے کوئی اور نہ تھے ایک جناب سید مرتضیٰ علم الہدیٰ رحمۃ اللہ علیہ اور دوسرے جامع نہج البلاغہ جناب سید رضی رحمۃ اللہ علیہ تھے۔
شیخ مفید رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو اس طرح تعلیم دی کہ آگے چل کر دونوں بھائی افق علم پر مہر و ماہ بن کر چمکے۔ کہ ایک مرتبہ جناب شیخ مفید رحمۃ اللہ علیہ اور جناب سید مرتضیٰ رحمۃ اللہ علیہ میں کسی علمی نکتہ میں اختلاف ہوا تو دونوں نے طے کیا کہ اس کا فیصلہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے کرائیں گے۔ جب مسئلہ کو کاغذ پر لکھ کر مولا کی ضریح مطہر کے حوالے کیا تو ادھر سے جواب آیا : ’’انت شیخی و معتمدی والحق مع ولدی علم الہدیٰ‘‘ (ائے شیخ مفید! آپ میرے لئے قابل اعتماد ہیں لیکن حق میرے بیٹے علم الہدیٰ (سید مرتضیٰؒ) کے ساتھ ہے۔ )
جناب شیخ مفید رحمۃ اللہ علیہ کی درس میں جہاں شیعہ علماء و طلاب شرکت کرتے ہیں وہیں اہل سنت علماء کی بھی کثرت تھی۔ آپ کی ذہانت اور حاضر جوابی اپنی مثال آپ تھی کہ اگر کوئی کتاب مذہب شیعہ کے خلاف لکھی جاتی تو آپ اس کا جواب ضرور لکھتے کہ جب آپ کی وفات ہوئی تو مخالفین نے سکون کی سانس لی کہ ان کا جواب لکھنے والا گذر گیا۔ (مرات الجنان فی تاریخ مشاہیرالاعیان ، جلد 3، صفحہ 199)
افسوس 3؍ رمضان المبارک 413 ہجری کو بغداد میں رحلت فرمائی، آپ کے شاگرد جناب سید مرتضیٰ علم الہدیٰ رحمۃ اللہ علیہ نے نماز جنازہ پڑھی ۔ حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اور حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کے روضہ مبارک میں دفن ہوئے۔